امریکی حملہ محدود تھا، مگر وسیع جنگ کی صورت میں ایران بھرپور ردعمل دے سکتا ہے: امریکی عسکری حکام

واشنگٹن / مشرقِ وسطیٰ — امریکی فضائیہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری ٹھکانوں پر گزشتہ سال ہونے والا امریکی حملہ ایک محدود اور مخصوص نوعیت کا آپریشن تھا، جسے کسی وسیع جنگی مہم سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔
ایئر فورس گلوبل اسٹرائیک کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل جیسن آرماگوسٹ نے مچل انسٹیٹیوٹ ایئر پاور فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ “مڈنائٹ ہیمر” ایک خاص مقصد کے تحت کیا گیا مشن تھا۔ ان کے مطابق یہ کسی کھیل کے ایک محدود مرحلے جیسا تھا، نہ کہ پوری جنگ۔
امریکی حکام کے مطابق، ایران نے اس حملے کے جواب میں محدود نوعیت کا ردعمل دیا۔ تہران نے خطے میں امریکی فوج کے ایک اڈے پر چند بیلسٹک میزائل داغے، جس کا مقصد ایک طرف اندرونی سطح پر طاقت کا تاثر دینا تھا اور دوسری جانب امریکہ کے ساتھ کشیدگی کو مکمل جنگ میں بدلنے سے روکنا تھا۔

تاہم عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ ایران کے خلاف ایک بڑی فضائی مہم شروع کرتا ہے تو ردعمل اس سے کہیں زیادہ شدید ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسی صورت میں ایران اپنے مختصر اور درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل استعمال کرتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اور اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
رپورٹ میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران اپنے اتحادی اور حمایت یافتہ گروہوں کو بھی متحرک کر سکتا ہے۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ خطے میں موجود شیعہ ملیشیاؤں کو حملوں کی ہدایت دی جا سکتی ہے، جبکہ یمن میں سرگرم حوثی گروہ بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ڈرون اور میزائل حملے بھی کر سکتے ہیں۔
اگرچہ اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ اور غزہ میں حماس کے خلاف بڑی کارروائیاں کی ہیں، لیکن تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اب بھی خطے میں بالواسطہ اثر و رسوخ استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ عراق اور شام میں موجود مسلح گروہ بھی امریکی افواج کے خلاف کارروائیاں تیز کر سکتے ہیں۔
عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں تمام فریق براہِ راست تصادم سے گریز کی کوشش کر رہے ہیں، مگر کسی بڑے حملے کی صورت میں صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے عالمی سطح پر سفارتی حل اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔



