ایرانتازہ ترینترکیمشرق وسطییورپ امریکا

ایران، اسرائیل اور امریکا: بڑھتی کشیدگی، عسکری تیاریوں اور سفارتی اشاروں کے درمیان خطرناک مرحلہ

مشرقِ وسطیٰ میں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان کشیدگی ایک نازک موڑ میں داخل ہو چکی ہے۔ حالیہ بیانات، عسکری نقل و حرکت اور میڈیا رپورٹس اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ خطے میں طاقت کے توازن اور ممکنہ تصادم کے خدشات بڑھ رہے ہیں، اگرچہ باضابطہ طور پر تمام فریق سفارتکاری کے دروازے بند نہ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق تل ابیب نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کی مدد بند کرے، جبکہ اسرائیلی حلقوں میں اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ایران کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے۔ بعض تجزیوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر ایران پر براہِ راست حملہ ہوا تو اس کے اثرات خلیجی خطے تک جا سکتے ہیں اور دبئی جیسے اہم مراکز بھی دباؤ کی زد میں آ سکتے ہیں۔

امریکی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک امریکی تجزیہ کار کی رائے کو نمایاں انداز میں شیئر کیا، جس میں کہا گیا کہ ایران بتدریج ’’مشرقِ وسطیٰ کا شمالی کوریا‘‘ بنتا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اس بیان کو ایران کے خلاف ممکنہ سخت پالیسی کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اگرچہ واشنگٹن کی جانب سے کوئی واضح فوجی اعلان سامنے نہیں آیا۔

عسکری سطح پر امریکا نے اپنا ایئرکرافٹ کیریئر ابراہم لنکن اور اس کے ساتھ بحری بیڑے کو ایران کے چابہار بندرگاہ سے تقریباً 1400 کلومیٹر دور خلیج عدن کے قریب منتقل کر دیا ہے۔ ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے حملہ کیا تو علاقائی جنگ بھڑک سکتی ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتی ہیں۔ ایرانی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک کی عسکری حکمتِ عملی اب محض دفاعی نہیں رہی بلکہ جارحانہ رخ اختیار کر چکی ہے۔

اسرائیلی دفاعی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وہ ایران کی فوجی سرگرمیوں پر چوبیس گھنٹے نگرانی رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق جدید سینسر سسٹمز کسی بھی ممکنہ میزائل لانچ کو فوری طور پر شناخت کر لیتے ہیں، جبکہ خلائی نیویگیشن کی مدد سے ہزاروں کلومیٹر دور اہداف کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ اسی تناظر میں اسرائیلی فوج نے بڑے پیمانے پر ہنگامی مشقیں بھی کی ہیں، جن میں آبادی والے علاقوں میں ممکنہ تباہی کے منظرنامے شامل تھے۔

ایرانی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اگر ایران پر حملے کے واضح آثار سامنے آئے تو سب سے پہلے متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری تصدیق موجود نہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی اخبار معاریف کے مطابق اسرائیلی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ایران تیزی سے بدلتی صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے، اور امریکا کا ایران سے مذاکرات کرنا مغربی سفارتکاری کے لیے ایک مشکل امتحان ثابت ہو سکتا ہے۔

ایران کے اندر بھی مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر بڑھتے دباؤ نے حکمتِ عملی میں غلطیوں کا امکان پیدا کر دیا ہے، جس سے امریکا کو مزید دباؤ بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ ایرانی پارلیمان سے وابستہ شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ ملک ایک انتہائی حساس مرحلے میں کھڑا ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سخت فیصلے خارج از امکان نہیں۔

علاقائی و عالمی سطح پر بھی اثرات نظر آ رہے ہیں۔ آسٹریا نے ایران کی سپاہِ پاسداران سے منسلک افراد پر پابندیاں عائد کی ہیں، جس پر تہران نے یورپ اور امریکا پر دشمنانہ رویے کا الزام لگایا ہے۔ اسرائیلی میڈیا نے ایران میں مختلف مقامات پر آتشزدگی کے واقعات کو خفیہ کارروائیوں سے جوڑا ہے، جبکہ حال ہی میں تہران میں ایک پلازہ میں آگ لگنے کے واقعے میں جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

اسی دوران امریکا کے ایک خصوصی طیارے کی پرواز کی خبر بھی سامنے آئی ہے، جو مبینہ طور پر فضاء میں جوہری ذرات کی نگرانی کے لیے استعمال ہوتا ہے، جس سے خطے میں جوہری سرگرمیوں سے متعلق خدشات کو تقویت ملی ہے۔ ادھر چین نے اسرائیل میں مزید سرمایہ کاری محدود کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے جواب میں اسرائیل نے بھی بعض چینی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے منسوخ کر دیے ہیں۔

A U.S. Air Force WC-135R Constant Phoenix assigned to the 45th Reconnaissance Squadron, Offutt Air Force Base, Nebraska, prepares to taxi within the U.S. Central Command area of responsibility, Dec. 1, 2024. The WC-135 serves as a non-combatant, scientific data-gathering aircraft, aimed to ensure nations adhere to prohibited above ground nuclear weapons testing. (U.S. Air Force photo)

سفارتی محاذ پر ایران نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو مضبوط اور مستحکم قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تہران، ریاض کو خطے کی ایک اہم طاقت اور قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھتا ہے اور دونوں قیادتیں تعلقات کو مزید بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں۔

دوسری جانب ولودیمیر زیلنسکی نے ایران پر الزام عائد کیا ہے کہ اس کے فراہم کردہ ڈرونز یوکرین جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں اور ایران خطے میں عدم استحکام پھیلا رہا ہے۔

مجموعی طور پر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں عسکری دباؤ، سخت بیانات اور محدود سفارتی رابطے بیک وقت جاری ہیں۔ اگرچہ فوری جنگ کا اعلان کہیں سے نہیں ہوا، مگر حالات کی حساسیت اس امر کی متقاضی ہے کہ کسی بھی غلط اندازے کے نتائج پورے خطے کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button