تازہ ترین

ایران کا معاشی محاصرہ! امریکہ نے اچانک کون سی بڑی پابندیاں لگا دیں؟

واشنگٹن/تہران(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): مشرق وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور بالواسطہ مذاکرات کے سائے میں، امریکہ نے ایران کے خلاف اپنی معاشی اور سفارتی جنگ میں مزید شدت لاتے ہوئے درجنوں ایرانی شخصیات، اداروں اور تیل بردار جہازوں پر نئی اور کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں اور ایرانی نیوز ایجنسی ‘تسنیم’ کی رپورٹس کے مطابق، امریکی محکمہ خزانہ کے ‘آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول’ (OFAC) نے بدھ کے روز ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اس اقدام کے تحت 30 سے زائد افراد، تجارتی اداروں اور بحری جہازوں کو نام نہاد "پابندیوں کی فہرست” (Sanctions List) میں شامل کر لیا گیا ہے۔

پابندیوں کا نشانہ کون بنا؟ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، اس نئی لسٹ میں درج ذیل اہداف شامل ہیں:

  • 16 اہم ایرانی تجارتی و ریاستی ادارے
  • 12 بحری جہاز اور آئل ٹینکرز (جو مبینہ طور پر خفیہ نیٹ ورک کا حصہ ہیں)
  • متعدد سرکردہ ایرانی شخصیات

پابندیوں کا جواز اور امریکی الزامات امریکی حکام کا الزام ہے کہ یہ پورا نیٹ ورک مبینہ طور پر ایرانی تیل کی غیر قانونی فروخت اور عالمی منڈیوں تک اس کی رسائی میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہا تھا۔ مزید برآں، ان افراد اور اداروں پر ایران کے متنازعہ بیلسٹک میزائل پروگرام اور جدید روایتی ہتھیاروں کی تیاری میں مالی اور تکنیکی معاونت فراہم کرنے کا بھی سنگین الزام عائد کیا گیا ہے۔

فوجی دباؤ اور مذاکرات کا دہرا معیار (تجزیاتی پہلو) دفاعی اور سفارتی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ نئی پابندیاں امریکہ کی اس دیرینہ ‘پالیسی آف میکسیمم پریشر’ (Maximum Pressure Policy) کا تسلسل ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ واشنگٹن ایک طرف تہران کے ساتھ جوہری تنازعے پر بالواسطہ مذاکرات کا حصہ ہے، تو دوسری جانب خطے میں اپنی فوجی موجودگی اور جنگی بیڑوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔

ایران پر فوجی حملے کی کھلی دھمکیاں اور ساتھ ہی معاشی پابندیوں کا یہ نیا سلسلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ مذاکرات کی میز پر ایران کو کمزور پوزیشن میں لانے کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کر رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button