تازہ ترین

سعودی عرب میں امریکی طیاروں کا سمندر! سیٹلائٹ تصاویر نے سب سچ بتا دیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ): مشرق وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے سائے میں ایک اور اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ تازہ ترین اور ہائی ریزولوشن سیٹلائٹ تصاویر نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی عرب میں واقع ایک اہم اور اسٹریٹجک فوجی اڈے پر امریکی فضائیہ کے جنگی اور امدادی طیاروں کی تعداد میں اچانک نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، یہ غیر معمولی نقل و حرکت ایک ایسے وقت میں ریکارڈ کی گئی ہے جب واشنگٹن مبینہ طور پر تہران کے ساتھ کشیدگی کے پیشِ نظر خطے میں اپنی فوجی طاقت کو مجتمع کر رہا ہے۔

پرنس سلطان ایئر بیس پر کیا ہو رہا ہے؟ چشم کشا حقائق سیٹلائٹ امیجری کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ فروری کے صرف چار دنوں کے اندر سعودی عرب کے ‘پرنس سلطان ایئر بیس’ (جو دہائیوں سے امریکی افواج کے زیرِ استعمال ہے) پر فوجی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے:

  • 17 فروری: اڈے پر 27 بڑے طیارے موجود تھے۔
  • 21 فروری: طیاروں کی تعداد میں اچانک اضافہ ہوا اور کم از کم 43 طیارے رن وے اور پارکنگ ایریا میں دیکھے گئے۔
  • 25 فروری: تازہ ترین تصاویر میں یہ تعداد معمولی کمی کے ساتھ 38 ریکارڈ کی گئی۔

کون سے اسٹریٹجک طیارے تعینات کیے گئے ہیں؟ دفاعی اور سیٹلائٹ امیجری کے ماہر ولیم گڈہنڈ کے مطابق، 21 فروری کی تصاویر میں کل 29 بڑے طیارے دیکھے گئے ہیں، جن میں خطے کی سکیورٹی کے حوالے سے انتہائی اہم اثاثے شامل ہیں:

  • 13 بوئنگ KC-135 اسٹریٹو ٹینکرز: یہ طیارے جنگی جہازوں کو ہوا میں ایندھن فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو طویل فاصلے کے مشنز کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔
  • 6 بوئنگ E-3 سینٹری (AWACS): یہ اواکس طیارے انتہائی جدید ریڈار سسٹم سے لیس ہوتے ہیں جو سینکڑوں کلومیٹر دور سے دشمن کی نقل و حرکت مانیٹر کرنے اور فضائی کمانڈ اینڈ کنٹرول کا کام سرانجام دیتے ہیں۔

سعودی عرب کا دو ٹوک موقف اور سفارتی صورتحال یہ امریکی فوجی بلڈ اپ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب خطے کی سفارت کاری بھی عروج پر ہے۔ امریکا کے قریبی اتحادی سعودی عرب نے گزشتہ ماہ ہی ایران کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو تہران کے خلاف کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ دوسری جانب، ایران کے جوہری پروگرام پر واشنگٹن اور تہران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے، جس سے خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

تجزیاتی پہلو (تازہ حالات نیوز ڈیسک کی خصوصی رپورٹ) دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایک طرف اسرائیل کے ہوائی اڈوں پر اور اب خلیج میں پرنس سلطان ایئر بیس پر ری فیولنگ اور اواکس طیاروں کی اتنی بڑی تعداد میں تعیناتی محض کوئی اتفاق نہیں ہے۔ یہ اس بات کا قوی اشارہ ہے کہ امریکی افواج خلیج فارس میں کڑی فضائی نگرانی اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کے لیے خود کو ‘ہائی الرٹ’ پر رکھ رہی ہیں۔ ہوا میں ایندھن بھرنے والے طیاروں کی کثیر تعداد اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ امریکا طویل مدتی اور دور مار فضائی آپریشنز کی لاجسٹک تیاریوں میں مصروف ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button