امریکاتازہ ترین

جنگ چار نہیں پانچ ہفتے بھی چل سکتی ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کا نیا بیان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکہ کے صدر Donald Trump نے ایران کے ساتھ جاری جنگ کے ممکنہ دورانیے کے بارے میں اپنے اندازے میں تبدیلی کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تنازع چار کے بجائے پانچ ہفتوں تک بھی جاری رہ سکتا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے ABC News کو دیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ابتدا ہی سے سمجھتے تھے کہ جنگ چار سے پانچ ہفتے تک جاری رہ سکتی ہے، اگرچہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ حالات کے مطابق یہ مدت کم یا زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔

مختصر جنگ کی خواہش، مگر بدلتا مؤقف

ٹرمپ ماضی میں مشرقِ وسطیٰ میں طویل عسکری مداخلتوں کے ناقد رہے ہیں اور انتخابی مہم کے دوران بیرونِ ملک جنگوں سے گریز کا وعدہ بھی کرتے رہے۔ تاہم حالیہ مہینوں میں ان کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف سخت مؤقف اپنایا گیا ہے، جسے ناقدین پالیسی میں نمایاں تبدیلی قرار دے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ نے ایران کی موجودہ قیادت کے متبادل ممکنہ امیدواروں کی نشاندہی کر لی تھی، لیکن آپریشن کے ابتدائی دنوں میں وہ مارے گئے۔ انہوں نے جاری کارروائی کو کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا کہ ابتدائی حملوں نے ممکنہ قیادت کو مؤثر طور پر ختم کر دیا۔

آپریشن "ایپک فیوری” اور علاقائی صورتحال

امریکی صدر نے کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ Operation Epic Fury کے ابتدائی دو دنوں میں اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملہ اتنا مؤثر تھا کہ جن افراد کو ممکنہ قیادت سمجھا جا رہا تھا وہ اب زندہ نہیں رہے۔

ادھر خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ کارروائیوں کے بعد ایران کی جانب سے میزائل حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، اگرچہ بعض علاقوں میں جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی۔ اسرائیلی فوج نے لبنان میں حزب اللہ کے خلاف بھی ایک "جارحانہ مہم” شروع کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے خطے میں وسیع پیمانے پر عدم استحکام کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

عالمی تشویش میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق جنگ کے ممکنہ دورانیے میں توسیع کے اشارے عالمی منڈیوں اور سفارتی محاذ پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔ طویل تنازع نہ صرف توانائی کی عالمی سپلائی بلکہ خطے کے سکیورٹی توازن کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو اس کے سیاسی اور معاشی اثرات خطے سے باہر بھی محسوس کیے جائیں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button