غزہ میں حملے جاری، مغربی کنارے پر اسرائیلی کنٹرول میں اضافہ

(تازہ حالات رپورٹ)
تازہ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی سکیورٹی کابینہ نے مغربی کنارے پر کنٹرول مضبوط بنانے کے لیے نئے ضوابط کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد علاقے میں کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد انتظامی اور سکیورٹی نگرانی کو وسیع کرنا بتایا جا رہا ہے، تاہم فلسطینی قیادت اور عالمی مبصرین انہیں عملی طور پر الحاق کی جانب ایک اور قدم قرار دے رہے ہیں۔

ادھر غزہ کی پٹی میں اسرائیلی کارروائیاں جاری ہیں۔ وسطی غزہ میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم تین فلسطینی جاں بحق ہو گئے، جبکہ اس سے قبل مغربی غزہ سٹی میں ایک رہائشی عمارت پر فضائی حملے میں چار افراد کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی۔ مقامی ذرائع کے مطابق زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔
مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی صورتحال کشیدہ ہے، جہاں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی جانب سے چھاپے، گرفتاریاں اور جھڑپیں مسلسل رپورٹ ہو رہی ہیں۔ فلسطینی انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں نے عام شہریوں کی زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔

دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی کنارے کے باضابطہ الحاق کی مخالفت کا اعادہ کیا ہے، تاہم اسرائیلی فیصلوں پر عالمی سطح پر تنقید بڑھتی جا رہی ہے۔ یورپی اور عرب ممالک سمیت مختلف عالمی حلقوں نے ان اقدامات کو خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔

انسانی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ رفح کراسنگ کے ذریعے غزہ میں واپس آنے والوں کے چھٹے مرحلے میں 40 افراد غزہ پہنچے ہیں۔ امدادی ادارے جنگ کے باعث پیدا ہونے والے انسانی بحران پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران غزہ میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 71 ہزار سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ اسی دوران 7 اکتوبر 2023 کے حملوں میں اسرائیل میں تقریباً 1,139 افراد ہلاک ہوئے اور لگ بھگ 250 کو یرغمال بنایا گیا تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق زمینی حقائق میں تبدیلی اور مسلسل فوجی کارروائیاں نہ صرف فلسطینیوں کے لیے حالات کو مزید سنگین بنا رہی ہیں بلکہ خطے میں کسی پائیدار سیاسی حل کی امیدوں کو بھی کمزور کر رہی ہیں۔



