تازہ ترینعالمی خبریںفلسطین

غزہ: 8 ہزار لاشیں اب بھی ملبے تلے، 3 ہزار افراد لاپتہ — اقوام متحدہ نے 6 کروڑ ٹن سے زائد ملبے کی نشاندہی کر دی

غزہ میں جنگ بندی کے باوجود تباہی کے اثرات کم ہونے کے بجائے مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔ غزہ سول ڈیفنس کے مطابق تقریباً 8 ہزار افراد کی لاشیں اب بھی منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبی ہوئی ہیں، جبکہ کم از کم 3 ہزار افراد لاپتہ ہیں اور ان کے بارے میں یہ واضح نہیں کہ وہ زندہ ہیں، شہید ہو چکے ہیں یا قید میں ہیں۔

سول ڈیفنس کے ترجمان محمود بصل کا کہنا ہے کہ تلاش اور بازیابی کے دوران متعدد لاشیں مکمل طور پر گل سڑ چکی ہیں یا ان کی شناخت ممکن نہیں رہی۔ اکتوبر میں جنگ بندی کے نفاذ کے بعد اب تک 700 سے زائد لاشیں نکالی جا چکی ہیں، تاہم امدادی ٹیموں کو غیر پھٹے گولہ بارود، مسلسل گولہ باری اور بھاری مشینری کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

ملبے کا پہاڑ اور آلودگی کا خطرہ

اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کے مطابق غزہ میں کم از کم 6 کروڑ 10 لاکھ ٹن ملبہ جمع ہو چکا ہے۔ اندازہ ہے کہ اس ملبے کا تقریباً 15 فیصد حصہ ایسبیسٹس، صنعتی فضلے یا بھاری دھاتوں سے آلودہ ہو سکتا ہے، جو صحتِ عامہ کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق گنجان شہری علاقوں میں تباہ شدہ ڈھانچوں کے باعث ہاتھ سے تلاش کا عمل انتہائی سست ہے، جبکہ بھاری مشینری کی محدود دستیابی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ شمالی اور جنوبی غزہ میں بعض علاقوں میں اب بھی جھڑپوں اور دھماکوں کی اطلاعات ملتی رہتی ہیں، جس سے امدادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔

متنازع الزامات اور بڑھتی بے یقینی

ایک حالیہ تحقیقی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بعض حملوں میں انتہائی طاقتور تھرمو بارک ہتھیار استعمال کیے گئے، جس سے سینکڑوں لاشوں کے مکمل طور پر جل جانے یا شناخت سے باہر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔ تاہم اس حوالے سے مختلف دعوے اور جوابی بیانات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق دو سالہ تنازع میں ہلاکتوں کی تعداد 72 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور غزہ کا تقریباً 90 فیصد بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے۔ جنگ بندی کے بعد بھی متعدد خلاف ورزیوں کی اطلاعات ہیں، جن میں مزید ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات شامل ہیں۔

بحالی کا مشکل راستہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ بحالی کا عمل صرف افرادی قوت سے ممکن نہیں، بلکہ محفوظ راہداریوں، مستقل سیکیورٹی یقین دہانیوں اور مؤثر لاجسٹکس کی ضرورت ہے۔ جب تک امدادی سامان اور مشینری متاثرہ علاقوں تک بلا رکاوٹ نہیں پہنچتی، ملبہ ہٹانے اور لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل سست روی کا شکار رہے گا۔

فی الحال ہزاروں خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں بے یقینی اور انتظار کی اذیت سے گزر رہے ہیں، جبکہ غزہ کی تعمیرِ نو ایک طویل اور کٹھن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button