امریکی اڈوں کے دفاع کے لیے یوکرین کے ڈرون ماہرین اردن پہنچ گئے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ ان کے ملک نے امریکی درخواست پر ڈرون ماہرین اور دفاعی ڈرونز اردن بھیجے ہیں تاکہ وہاں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ایرانی ڈرون حملوں سے محفوظ بنانے میں مدد دی جا سکے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق واشنگٹن نے یہ درخواست گزشتہ ہفتے کی تھی جس کے بعد یوکرینی ماہرین کی ایک ٹیم فوری طور پر اردن روانہ ہو گئی۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران، امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کے دوران خلیجی ممالک، عراق اور اردن میں امریکی مفادات کو میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کی کوششیں کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق حال ہی میں اردن میں نصب امریکی تھاد (THAAD) فضائی دفاعی نظام کے ریڈار کو ایرانی ڈرون حملے میں نقصان پہنچا تھا، جس کے بعد واشنگٹن فوری طور پر اس دفاعی نظام کو دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
یوکرین کے تجربے کی اہمیت
ماہرین کے مطابق یوکرین کو روس کے خلاف جاری جنگ میں ایرانی ساختہ شاہد ڈرونز کا وسیع تجربہ حاصل ہو چکا ہے۔ اسی تجربے کی بنیاد پر یوکرینی ماہرین اب امریکی اور مشرق وسطیٰ کے اتحادیوں کو ایسے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے طریقے بتا رہے ہیں۔

صدر زیلنسکی کا کہنا ہے کہ انہیں ملنے والی انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق ایران کے استعمال ہونے والے بعض ڈرونز میں روسی ساختہ پرزے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ روس نے ایران کو جنگ کے دوران امریکی فوجی اہداف کے بارے میں معلومات بھی فراہم کیں۔
مہنگے دفاعی نظام پر دباؤ
ماہرین کے مطابق ایران کے ڈرون حملوں نے خطے میں دفاعی نظام پر بھی بڑا مالی دباؤ ڈال دیا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد چند ہی دنوں میں 800 سے زائد پیٹریاٹ میزائل استعمال کیے گئے تاکہ دو ہزار سے زیادہ ایرانی ڈرونز اور سینکڑوں بیلسٹک میزائلوں کو روکا جا سکے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک ایرانی شاہد ڈرون کی قیمت تقریباً 50 ہزار ڈالر ہوتی ہے جبکہ اسے روکنے کے لیے استعمال ہونے والا امریکی پیٹریاٹ میزائل تین ملین ڈالر سے زیادہ مہنگا ہے۔ اسی وجہ سے سستے ڈرونز کے مقابلے کے لیے نئے اور کم لاگت دفاعی طریقوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
یوکرین کی حکمت عملی
یوکرین اس صورتحال کو اپنے لیے ایک سفارتی اور دفاعی موقع کے طور پر بھی دیکھ رہا ہے۔ کییف کی قیادت امید رکھتی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تعاون کے بدلے اسے مزید جدید دفاعی نظام اور ہتھیار مل سکتے ہیں جو روس کے خلاف جاری جنگ میں مددگار ثابت ہوں گے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری تنازع نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ یورپ اور دیگر خطوں میں بھی ڈرون جنگ کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے، اور آنے والے برسوں میں ڈرون دفاعی ٹیکنالوجی عالمی سلامتی کا ایک اہم حصہ بن سکتی ہے۔



