ایرانتازہ ترین

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی 60 فیصد کشتیاں اب بھی آبنائے ہرمز کے لیے خطرہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایران کے بحری بیڑے کو حالیہ کشیدگی کے دوران نقصان ضرور پہنچا ہے، تاہم پاسدارانِ انقلاب کی بڑی تعداد میں تیز رفتار کشتیاں اب بھی فعال ہیں اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لیے بدستور خطرہ بنی ہوئی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکا نے ایرانی بحری صلاحیت کو جزوی طور پر متاثر کیا، لیکن وہ مکمل طور پر اس بیڑے کو غیر مؤثر بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا، جس پر ایران اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول کے لیے انحصار کرتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی 60 فیصد سے زائد فاسٹ اٹیک کشتیاں اب بھی محفوظ ہیں اور کسی بھی وقت کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

امریکی دفاعی ماہر فرزین ندیمی کے مطابق یہ چھوٹی اور تیز رفتار کشتیاں ایران کی بحری حکمت عملی کا اہم حصہ ہیں، جبکہ سابق پینٹاگون عہدیدار ڈیوڈ ڈی روشے کا کہنا ہے کہ ان کشتیوں کو سیٹلائٹ کے ذریعے ٹریک کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ان کا سائز چھوٹا اور تعداد زیادہ ہوتی ہے۔

برطانوی بحریہ کے سابق افسر کرس لانگ کے مطابق ایران نے ساحلی علاقوں میں زیرِ زمین خفیہ ڈوک بھی قائم کر رکھے ہیں، جہاں سینکڑوں چھوٹی کشتیوں کو چھپا کر رکھا جا سکتا ہے، جس سے ان کی بقا اور اچانک کارروائی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کشتیوں کو مکمل طور پر ختم کرنا ایک طویل اور پیچیدہ عمل ہوگا، جس کے لیے امریکا کو وقت اور اضافی وسائل درکار ہوں گے۔ اسی دوران آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم راستہ ہے، جنگ کے باعث تقریباً بندش کا شکار رہا ہے، جس نے عالمی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد بھی اہم مسائل حل طلب رہے۔ ذرائع کے مطابق آبنائے ہرمز کی صورتحال ان مذاکرات کے مرکزی نکات میں شامل ہے، جبکہ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا کسی “قابل قبول معاہدے” پر آمادہ نہیں ہوتا، اس گزرگاہ کی صورتحال میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئے گی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اگرچہ عسکری کارروائیوں سے ایران کی کچھ صلاحیت متاثر ہوئی ہے، لیکن اس کی بحری حکمت عملی اب بھی مؤثر ہے، جو خطے میں کشیدگی کو برقرار رکھ سکتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ بنی رہ سکتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button