
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود پاکستان کے لیے خام تیل لے جانے والا ایک آئل ٹینکر کامیابی سے آبنائے ہرمز عبور کر کے پاکستان کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔ جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والے ڈیٹا کے مطابق یہ ٹینکر اب پاکستانی ساحلوں کی طرف سفر کر رہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق خام تیل سے لدا یہ ٹینکر خلیج فارس سے نکل کر آبنائے ہرمز سے گزرا اور اب پاکستان کے لیے اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔ موجودہ کشیدہ صورتحال میں یہ ان چند جہازوں میں شامل ہے جو امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خلیج سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ یہ جہاز پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے زیر انتظام ہے اور اس نے اتوار کے روز انتہائی محتاط انداز میں سفر کرتے ہوئے خطرناک سمندری راستہ عبور کیا۔ پیر کی صبح تک یہ ٹینکر عمان کے ساحلی علاقے صحار کے قریب سمندری حدود میں دیکھا گیا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ حالیہ جنگی کشیدگی اور میزائل و ڈرون حملوں کے باعث اس راستے سے جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔
دفاعی اور توانائی کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں خلیج سے گزرنے والے ہر تیل بردار جہاز کو اضافی خطرات کا سامنا ہے، کیونکہ خطے میں سمندری بارودی سرنگوں، ڈرون حملوں اور میزائل خطرات کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے جہازوں کی محفوظ آمدورفت نہ صرف خطے کے ممالک بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ کے لیے بھی اہم ہے، کیونکہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں اور سپلائی چین پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔



