
تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملکی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی کے تناظر میں کہا ہے کہ موجودہ معاشی حالات کے باعث بطور صدر ان کی ماہانہ تنخواہ تقریباً ایک ہزار امریکی ڈالر کے برابر رہ گئی ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کو شدید معاشی دباؤ، مہنگائی اور کرنسی کی گرتی ہوئی قدر جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔

صدر پزشکیان نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ ملک کے معاشی مسائل صرف عوام تک محدود نہیں بلکہ حکومتی سطح پر بھی اس کے اثرات محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں سب کو یکجہتی اور صبر کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرنا ہوگا۔
معاشی ماہرین کے مطابق ایرانی ریال کی قدر میں حالیہ برسوں میں مسلسل کمی دیکھنے میں آئی ہے، جس کی بڑی وجوہات بین الاقوامی پابندیاں، تیل کی برآمدات میں رکاوٹیں اور عالمی مالیاتی دباؤ کو قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں مہنگائی کی شرح میں اضافہ اور عام شہری کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی ہوئی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر کا یہ بیان عوامی سطح پر ہمدردی پیدا کرنے اور حکومتی اخراجات سے متعلق شفافیت کا تاثر دینے کی کوشش بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اپوزیشن حلقوں کا مؤقف ہے کہ اصل مسئلہ تنخواہوں کا نہیں بلکہ وسیع پیمانے پر معاشی اصلاحات کا ہے۔
ایران اس وقت اقتصادی استحکام، بیرونی پابندیوں میں نرمی اور سفارتی روابط کی بحالی کے ذریعے معاشی بہتری کی کوششوں میں مصروف ہے، جبکہ حکومت عوام کو یقین دلا رہی ہے کہ مشکل حالات کے باوجود بہتری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔



