
انقرہ: ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران دونوں جوہری معاہدے تک پہنچنے کے لیے لچک دکھاتے نظر آ رہے ہیں، تاہم اگر مذاکرات کا دائرہ بڑھا کر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی معاملات کو بیک وقت شامل کیا گیا تو خطہ ایک نئی جنگ کی طرف جا سکتا ہے۔
برطانوی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں ہاکان فیدان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن نے بظاہر اس مؤقف میں نرمی دکھائی ہے کہ ایران مکمل طور پر یورینیم افزودگی ختم کرے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اہم ہے کیونکہ تہران ہمیشہ سے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے تحت محدود افزودگی کو اپنا حق قرار دیتا آیا ہے۔
فیدان نے کہا کہ “یہ مثبت بات ہے کہ امریکی فریق واضح حدود کے اندر ایرانی افزودگی کو برداشت کرنے پر آمادہ دکھائی دیتا ہے۔” ان کے بقول ایران بھی اب اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ اسے امریکا کے ساتھ ایک قابلِ عمل معاہدہ کرنا ہوگا، جبکہ واشنگٹن کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ تہران کی کچھ سرخ لکیریں ہیں۔
میزائل پروگرام پر اختلاف
ترک وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر امریکا تمام مسائل — بشمول بیلسٹک میزائل اور ایران کے علاقائی اتحادی گروہوں کی حمایت — کو ایک ساتھ حل کرنے پر اصرار کرے گا تو جوہری فائل بھی آگے نہیں بڑھ سکے گی۔ ان کے مطابق ایسا ہوا تو نتیجہ “علاقے میں ایک اور جنگ” کی صورت میں نکل سکتا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عمان میں امریکا اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا ایک دور ہو چکا ہے، جسے دونوں جانب سے مثبت ابتدائی قدم قرار دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق جلد ایک اور دور متوقع ہے، تاہم سفارتی ذرائع اسے اب بھی پیچیدہ اور کٹھن عمل قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیل اور خطے کی تشویش
فیدان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھنا ضروری ہے، جب 2015 کے جوہری معاہدے میں بعض علاقائی ممالک خود کو نظرانداز محسوس کر رہے تھے۔ ان کے مطابق کسی بھی نئے معاہدے کو خطے کے ممالک کے ساتھ اعتماد سازی کے اقدامات کے ساتھ جوڑنا ہوگا۔

اسرائیل مسلسل ایران کے میزائل پروگرام کو کسی بھی ممکنہ معاہدے کا حصہ بنانے کا مطالبہ کر رہا ہے، جبکہ ایران اسے ناقابلِ مذاکرہ قرار دیتا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھی مختلف مواقع پر سخت اور نرم بیانات سامنے آ چکے ہیں، جس سے پالیسی کی سمت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اقتصادی دباؤ اور داخلی حالات
ترک وزیر خارجہ نے اشارہ دیا کہ ایران کی قیادت کو اندرونی اقتصادی مشکلات اور عوامی بے چینی کا بھی ادراک ہے، جس کے باعث پابندیوں کے خاتمے کا معاملہ ان کے لیے اہم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق صرف عسکری دباؤ سے نظام کی تبدیلی ممکن نہیں، بلکہ اس سے خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ مرحلہ نہایت حساس ہے۔ ایک جانب سفارت کاری کی کھڑکی کھلی ہے، دوسری طرف فوجی تیاریوں اور بیانات نے کشیدگی کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ آئندہ چند ہفتے اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ خطہ ایک نئے معاہدے کی طرف بڑھے گا یا ایک بار پھر محاذ آرائی کی طرف۔



