
واشنگٹن / تہران:(تازہ حالات رپورٹ ) امریکی میڈیا میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ ماہ ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ پابندیوں کو ناکام بنانے کے لیے ہزاروں اسٹارلنک سیٹلائٹ انٹرنیٹ ٹرمینلز خفیہ طور پر ایران منتقل کیے۔
وال اسٹریٹ جرنل نے سینئر امریکی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ تقریباً 6 ہزار اسٹارلنک کٹس اسلامی جمہوریہ ایران تک پہنچائی گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے مجموعی طور پر لگ بھگ 7 ہزار ٹرمینلز خریدے، جن میں سے زیادہ تر جنوری میں حاصل کیے گئے، تاکہ حکومت مخالف کارکنان کو انٹرنیٹ بلیک آؤٹ سے بچنے میں مدد دی جا سکے۔
پس منظر: مظاہرے اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ
گزشتہ مہینے ایران بھر میں مہنگائی، کرنسی کی قدر میں کمی اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے۔ ایرانی حکام پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مظاہرین کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا اور ملک میں انٹرنیٹ تک رسائی تقریباً معطل کر دی۔

امریکہ نے باضابطہ طور پر ان مظاہروں میں مداخلت کی تردید کی ہے، تاہم رپورٹ کے مطابق “اسٹارلنک آپریشن” اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ واشنگٹن نے احتجاجی حلقوں کو تکنیکی مدد فراہم کی۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مبینہ طور پر ان اقدامات سے آگاہ تھے، اگرچہ یہ واضح نہیں کہ انہوں نے براہِ راست منظوری دی یا نہیں۔
ایران میں اسٹارلنک کی قانونی حیثیت
ایران میں اسٹارلنک ٹرمینل رکھنا غیر قانونی ہے اور اس پر کئی سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اس کے باوجود مبصرین کا کہنا ہے کہ ہزاروں ایرانی شہری خفیہ طور پر یہ ڈیوائسز استعمال کر رہے ہیں تاکہ حکومتی سنسرشپ سے بچتے ہوئے معلومات کا تبادلہ جاری رکھ سکیں۔ ایرانی حکام کی جانب سے گھروں اور عمارتوں کی چھتوں پر چھاپوں کی بھی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔
سفارتی تناظر اور جوہری مذاکرات
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر حساس مذاکرات جاری ہیں۔ امریکہ ایران کی یورینیم افزودگی روکنے کا خواہاں ہے، جبکہ تہران اسے پرامن مقاصد کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو خطے میں عسکری کشیدگی بڑھنے کا خطرہ موجود ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض امریکی شہری تنظیمیں بھی اسٹارلنک آلات کی خریداری اور ترسیل میں معاونت کر رہی ہیں، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی عوام کو انٹرنیٹ تک رسائی دلانے کے لیے مختلف ٹیکنالوجیز، بشمول وی پی این، کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔
تجزیہ
ماہرین کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ اقدام ایران کے داخلی معاملات میں ایک غیر معمولی تکنیکی مداخلت تصور کیا جا سکتا ہے، جس کے خطے کی سفارتی حرکیات پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے حامی حلقے اسے اظہارِ رائے کی آزادی کے لیے مددگار قدم قرار دے رہے ہیں۔



