
(تازہ حالات رپورٹ )
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے International Atomic Energy Agency (آئی اے ای اے) کے سربراہ Rafael Grossi نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے پاس موجود انتہائی افزودہ یورینیم کی مقدار نظریاتی طور پر ’’چند، شاید ایک درجن تک‘‘ جوہری آلات بنانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ادارے کے معائنہ کاروں کو اب تک متعلقہ مقامات تک مکمل رسائی حاصل نہیں ہو سکی۔
معائنہ کاروں کو رسائی کیوں نہیں؟
گروسی کے مطابق ایرانی حکام نے آئی اے ای اے کے انسپکٹرز کو نطنز، فردو اور اصفہان میں واقع اہم تنصیبات میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔ یہ وہ مقامات ہیں جنہیں گزشتہ برس جون میں اسرائیل، امریکا اور ایران کے درمیان 12 روزہ کشیدگی کے دوران حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ تقریباً 400 کلوگرام یورینیم، جو 60 فیصد سے کچھ زائد تک افزودہ کیا گیا ہے، اب بھی زیرِ زمین تنصیبات کے ملبے تلے موجود ہے۔ 60 فیصد تک افزودگی کو ہتھیاروں کے درجے کے قریب سمجھا جاتا ہے، اگرچہ جوہری بم کے لیے عام طور پر 90 فیصد کے قریب افزودگی درکار ہوتی ہے۔
آئی اے ای اے کا مؤقف
گروسی کا کہنا ہے کہ ادارے کو ’’مضبوط تاثر‘‘ ہے کہ یہ مواد اب بھی انہی زیرِ زمین مقامات پر موجود ہے، لیکن زمینی معائنہ کیے بغیر مکمل یقین ممکن نہیں۔ ان کے بقول ایران رسائی سے قبل مخصوص ’’پروٹوکول‘‘ اور انتظامی شرائط کی بات کر رہا ہے، جسے انہوں نے بنیادی طور پر ایک سیاسی مؤقف قرار دیا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے تحت ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم اسے بین الاقوامی تصدیق کے عمل کی اجازت دینا بھی لازم ہے تاکہ مواد کے کسی ممکنہ انحراف کو روکا جا سکے۔
نیا زیرِ زمین مرکز بھی زیرِ سوال
آئی اے ای اے حکام کے مطابق معائنہ کار ایک نئے اعلان کردہ زیرِ زمین مرکز کا بھی دورہ نہیں کر سکے، جس کا معائنہ 13 جون کو ہونا تھا—اسی روز جب اسرائیل نے بمباری مہم کا آغاز کیا تھا۔ اس کے بعد سے تنصیبات کی حالت اور وہاں موجود مواد کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔
علاقائی اور عالمی خدشات
مغربی طاقتوں نے ایرانی یورینیم ذخائر کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے، جبکہ تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال سفارتی سطح پر ایک نئی کشیدگی کو جنم دے سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں پہلے ہی عدم استحکام پایا جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر معائنہ کاروں کو جلد رسائی نہ ملی تو شکوک و شبہات میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ فی الحال عالمی برادری کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا تہران اور آئی اے ای اے کے درمیان رسائی کے معاملے پر کوئی پیش رفت ہوتی ہے یا نہیں۔



