
(تازہ حالات رپورٹ )
تحقیقی ویب سائٹ Declassified UK کی جانب سے شائع کردہ اعداد و شمار کے مطابق غزہ میں جاری اسرائیلی فوجی کارروائی کے دوران دو ہزار سے زائد برطانوی شہری اسرائیلی فوج (IDF) میں خدمات انجام دیتے رہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج کو دی گئی معلومات تک رسائی کے لیے دائر کردہ فریڈم آف انفارمیشن درخواست کے جواب میں بتایا گیا کہ مارچ 2025 تک 1,686 برطانوی۔اسرائیلی دوہری شہریت رکھنے والے افراد اور مزید 383 ایسے افراد جو برطانوی، اسرائیلی اور کم از کم ایک اور شہریت رکھتے ہیں، اسرائیلی فوج میں شامل تھے۔ اس طرح مجموعی تعداد 2,069 بنتی ہے۔
دیگر ممالک کے شہری بھی شامل
اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی فوج میں مجموعی طور پر 47,000 سے زائد ایسے اہلکار شامل تھے جو اسرائیلی شہریت کے ساتھ کسی اور ملک کی شہریت بھی رکھتے ہیں۔ ان میں سب سے بڑی تعداد امریکی شہریوں کی ہے، جن کی تعداد 13 ہزار سے زائد بتائی گئی ہے۔ اس کے بعد فرانس، روس، جرمنی، یوکرین، رومانیہ اور پولینڈ کے شہریوں کی نمایاں موجودگی کا ذکر کیا گیا ہے۔
قانونی اور سیاسی سوالات
ان انکشافات کے بعد برطانیہ میں یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ حکومت اس بات کا جائزہ لے کہ آیا اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والے برطانوی شہریوں میں سے کوئی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں میں ملوث تو نہیں تھا۔
غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد رپورٹ ہو چکی ہے، جبکہ معاملہ International Court of Justice (آئی سی جے) میں بھی زیرِ سماعت ہے۔ عدالت نے 2024 میں اپنے عبوری فیصلے میں کہا تھا کہ غزہ میں نسل کشی کے ممکنہ خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور ریاستوں کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔

پولیس کو درخواست
گزشتہ برس ایک 240 صفحات پر مشتمل دستاویز لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کے جنگی جرائم یونٹ کو جمع کرائی گئی تھی، جس میں دس برطانوی شہریوں کے نام شامل تھے۔ درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ ان افراد کا تعلق شہریوں اور امدادی کارکنوں پر حملوں سے ہو سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے وکلا کا مؤقف ہے کہ اگر معتبر شواہد موجود ہوں تو حکام پر تحقیقات کی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔
حکومتی ردِعمل
رپورٹ کے مطابق برطانوی دفترِ خارجہ نے ان اعداد و شمار پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دینے والے برطانوی شہریوں کی تعداد سے متعلق باقاعدہ ریکارڈ نہیں رکھتا۔
قانونی ماہرین نے 1870 کے فارن انلسٹمنٹ ایکٹ کا حوالہ بھی دیا ہے، جو برطانوی شہریوں کو کسی ایسی غیر ملکی فوج میں شمولیت سے روکتا ہے جو کسی ایسے ملک کے خلاف جنگ میں ہو جس سے برطانیہ امن کی حالت میں ہو۔ تاہم اس قانون کا اطلاق اور اس کی عملی تشریح پیچیدہ سمجھی جاتی ہے۔
وسیع تر بحث
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی اور سفارتی سوالات بھی کھڑے کرتے ہیں۔ ایک جانب دوہری شہریت رکھنے والے افراد کا کسی ملک کی فوج میں شامل ہونا غیر معمولی نہیں، لیکن جب معاملہ ایک متنازع جنگ اور بین الاقوامی عدالت میں زیرِ سماعت الزامات سے جڑا ہو تو اس کی حساسیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔



