یوکرین کا دعویٰ: جنگ کے آغاز سے اب تک روس کو 12 لاکھ سے زائد فوجی نقصانات

یوکرین کی مسلح افواج کے جنرل اسٹاف نے دعویٰ کیا ہے کہ 24 فروری 2022 سے جاری مکمل جنگ کے دوران روس کو مجموعی طور پر تقریباً 12 لاکھ 52 ہزار فوجی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تازہ بیان کے مطابق صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں روسی افواج کے مزید 1,070 اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے۔
یہ اعداد و شمار یوکرینی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں، جن کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق ممکن نہیں، تاہم کیف کا کہنا ہے کہ روسی فوج کو مسلسل بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
عسکری سازوسامان کا نقصان
یوکرینی رپورٹ کے مطابق روس اب تک درج ذیل سازوسامان سے محروم ہو چکا ہے:
11,668 ٹینک
24,031 بکتر بند جنگی گاڑیاں
37,282 توپ خانے کے نظام
1,645 ملٹی پل راکٹ لانچر سسٹمز
1,300 فضائی دفاعی نظام
435 جنگی طیارے
347 ہیلی کاپٹر
134,306 ڈرونز
29 بحری جہاز اور کشتیاں
2 آبدوزیں
اس کے علاوہ ہزاروں فوجی گاڑیاں اور ایندھن کے ٹینکر بھی تباہ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

متضاد دعوے
روس کی جانب سے اپنے جانی و مالی نقصانات کی مکمل تفصیلات شاذ و نادر ہی جاری کی جاتی ہیں۔ ماسکو اکثر یوکرین کے اعداد و شمار کو مبالغہ آمیز قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب مغربی انٹیلی جنس اندازوں کے مطابق بھی روس کو نمایاں نقصانات اٹھانے پڑے ہیں، تاہم حتمی تعداد پر اتفاق نہیں۔
جنگ کا پانچواں سال
روس-یوکرین جنگ اپنے چوتھے سال کے اختتام کے قریب ہے اور میدانِ جنگ میں شدید جھڑپیں جاری ہیں، خاص طور پر مشرقی ڈونباس کے محاذ پر۔ یوکرین کو مغربی ممالک کی فوجی اور مالی مدد حاصل ہے، جبکہ روس مسلسل نئے معاہداتی فوجیوں اور وسائل کے ذریعے اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
آگے کیا؟
تجزیہ کاروں کے مطابق مسلسل جانی نقصان اور عسکری وسائل کی تباہی دونوں ممالک کے لیے طویل المدتی چیلنج بن چکی ہے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو جنگ مزید طول پکڑ سکتی ہے، جس کے اثرات یورپ اور عالمی معیشت پر بھی پڑتے رہیں گے۔



