تازہ ترینرشیا یوکرین

روسی حملوں میں کم از کم 5 افراد ہلاک، 13 زخمی — یوکرین کے مختلف علاقوں میں تباہی

یوکرین کے حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران روسی حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور 13 زخمی ہو گئے۔ حملے ملک کے مختلف علاقوں میں ڈرونز، میزائلوں اور توپ خانے کے ذریعے کیے گئے۔

یوکرینی فضائیہ کے مطابق روس نے رات بھر میں 112 ڈرونز اور ایک اسکینڈر-ایم بیلسٹک میزائل داغا۔ فضائی دفاعی نظام نے 91 ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا، تاہم کم از کم 18 ڈرون اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے اور 11 مقامات کو نشانہ بنایا۔ دو دیگر مقامات پر ڈرون کے ملبے گرنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

خیرسون میں جانی نقصان

جنوبی علاقے خیرسون میں 31 بستیوں پر حملے کیے گئے۔ مقامی گورنر اولیکسندر پروکودین کے مطابق یہاں دو افراد ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔ ایک 52 سالہ شخص ڈرون سے گرائے گئے دھماکا خیز مواد کا نشانہ بنا۔

سومی اور زاپوریژیا میں حملے

شمال مشرقی علاقے سومی میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں 44 سالہ خاتون ہلاک جبکہ دو نوجوان زخمی ہوئے۔ گورنر اولیہ ہریہوروف کے مطابق ایک اور شخص بھی زخمی ہوا۔

جنوبی علاقے زاپوریژیا میں ایک شخص کی ہلاکت اور تین کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایک ہی دن میں 655 حملے 41 بستیوں پر کیے گئے۔

اوڈیسا، کیف اور خارکیف

اوڈیسا میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک خاتون جان سے گئی۔ کیف کے نواحی علاقے میں ایک مرد اور ایک خاتون زخمی ہو کر اسپتال منتقل ہوئے۔ خارکیف کے گاؤں فیسکی میں 22 سالہ نوجوان زخمی ہوا جبکہ کئی مکانات، گاڑیاں اور بجلی کا نظام متاثر ہوا۔

جاری کشیدگی

یوکرین میں جنگ اپنے چوتھے سال میں داخل ہو چکی ہے اور حالیہ مہینوں میں ڈرون اور میزائل حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روس توانائی کے ڈھانچے اور شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے، جبکہ یوکرین مغربی ساختہ دفاعی نظام کے ذریعے حملوں کو روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

مقامی حکام نے شہریوں سے محتاط رہنے اور فضائی حملے کے سائرن کی صورت میں فوری پناہ گاہوں کا رخ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انسانی امدادی ادارے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جنگ کے بڑھتے ہوئے جانی اور مالی نقصانات کے باعث بین الاقوامی سطح پر جنگ بندی اور سفارتی حل کی اپیلیں بھی جاری ہیں، تاہم زمینی صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button