ایرانتازہ ترینمشرق وسطی

ایران امریکا جنگ : تیل کی قیمتوں میں اضافہ،معاشی ہلچل،مہنگائی کا طوفان

نیویارک/لندن: (تازہ حالات خصوصی رپورٹ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیانات کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر بلندیوں کی جانب گامزن ہیں۔ بلومبرگ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی اور معاشی اقدامات کی دھمکیوں کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 3 فیصد یعنی تقریباً 2 ڈالر کا فوری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

قیمتوں میں اضافے کی موجودہ صورتحال

عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل (Brent Crude) کی قیمت اب 68 ڈالر فی بیرل کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اضافہ محض آغاز ہو سکتا ہے کیونکہ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم ہوتا ہے تو تیل کی رسد (Supply Chain) شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ کی ‘خوبصورت آرمادا’ اور مارکیٹ کا ردِعمل

بلومبرگ رپورٹ کا خلاصہ: "صدر ٹرمپ کے بیانات نے مارکیٹ میں ‘رسک پریمیم’ بڑھا دیا ہے۔ تاجر اب اس خوف میں مبتلا ہیں کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)، جہاں سے دنیا کا 20 فیصد تیل گزرتا ہے، کسی بھی وقت بند ہو سکتا ہے۔”

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کی جانب ایک طاقتور بحری بیڑا (Armada) بھیجنے کا اعلان کیا ہے، جس نے عالمی سرمایہ کاروں میں بے یقینی پیدا کر دی ہے۔ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق:

  • فوری اثر: ٹرمپ کے بیان کے چند گھنٹوں کے اندر قیمتوں میں 3 فیصد اضافہ ہوا۔
  • امریکی ڈبلیو ٹی آئی (WTI): ویسٹ ٹیکسٹاس انٹرمیڈیٹ کی قیمت بھی 62 ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔
  • سرمایہ کاروں کا تحفظ: تاجر محفوظ پناہ گاہوں کی تلاش میں تیل کے ‘کال آپشنز’ کی خریداری بڑھا رہے ہیں۔

تیل کی قیمتیں مزید کتنا بڑھ سکتی ہیں؟ (ریسرچ رپورٹ)

مختلف عالمی مالیاتی اداروں اور ماہرینِ معاشیات کے مطابق، اگر موجودہ کشیدگی برقرار رہی تو قیمتیں درج ذیل سطح تک جا سکتی ہیں:

صورتحالمتوقع قیمت (برینٹ خام تیل)
موجودہ کشیدگی برقرار رہنے پر72 سے 75 ڈالر فی بیرل
ایران کی بحری ناکہ بندی کی صورت میں85 سے 90 ڈالر فی بیرل
خلیج میں براہِ راست جنگ چھڑنے پر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز

پاکستان اور عالمی معیشت پر اثرات

تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ صرف عالمی مارکیٹ تک محدود نہیں رہے گا۔ اگر برینٹ 68 ڈالر سے اوپر رہتا ہے تو:

  1. پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات: مقامی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 5 سے 10 روپے تک کا اضافہ متوقع ہو سکتا ہے۔
  2. مہنگائی کی لہر: ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بھی بڑھ سکتی ہیں۔
  3. چین اور روس کا کردار: چین، جو ایرانی تیل کا بڑا خریدار ہے، امریکی پابندیوں اور قیمتوں کے اس اتار چڑھاؤ پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

تجزیہ: صدر ٹرمپ کی حکمتِ عملی بظاہر ایران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ ایک ‘بہتر ڈیل’ کی جا سکے، لیکن مارکیٹ اس دباؤ کو ‘جنگ کی دستک’ کے طور پر لے رہی ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو عالمی معیشت کو تیل کے ایک نئے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button