
(تازہ حالات رپورٹ )
اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے کسی بھی ممکنہ جوہری معاہدے میں تہران کے پورے جوہری ڈھانچے کو ختم کرنا لازمی ہونا چاہیے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے لیے جنیوا پہنچ رہے ہیں۔
اتوار کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی معاہدے کے بارے میں شکوک رکھتے ہیں، تاہم انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی شرائط سے آگاہ کر دیا ہے۔ ان کے مطابق پہلا تقاضا یہ ہے کہ ایران کا تمام افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کیا جائے۔ دوسرا یہ کہ نہ صرف افزودگی کا عمل روکا جائے بلکہ اس کے لیے استعمال ہونے والا پورا انفراسٹرکچر اور آلات بھی ختم کیے جائیں۔ تیسری شرط ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق ہے، جسے وہ علاقائی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔
نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر سخت اور مؤثر بین الاقوامی نگرانی ہونی چاہیے، ایسی نگرانی جو پیشگی اطلاع کے بغیر ہو اور مکمل شفافیت کو یقینی بنائے۔

ادھر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا نیا سلسلہ 6 فروری کو عمان میں شروع ہوا تھا، جو گزشتہ برس اسرائیل کی ایران پر فضائی کارروائیوں کے بعد معطل ہو گیا تھا۔ ان حملوں میں امریکا نے بھی حصہ لیا تھا اور ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب اس بات پر متفق ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا حتمی مقصد ہے، تاہم اس مقصد تک پہنچنے کے طریقہ کار پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ نیتن یاہو کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ قابلِ اعتماد معاہدہ ممکن نہیں، جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ سفارتی حل کی کوشش کی جانی چاہیے۔

دوسری جانب ایران مسلسل یہ مؤقف دہراتا رہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے، تاہم وہ پابندیوں میں نرمی کے بدلے کچھ حد تک مذاکرات پر آمادہ ہے۔ ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو مذاکرات سے الگ رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے کا اعلان کیا اور ایران نے کسی بھی ممکنہ حملے کی صورت میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی۔ ماہرین کے مطابق سفارت کاری کی ناکامی پورے خطے کو ایک وسیع تر تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔



