سومی اوبلاست پر روسی حملے: طبی مراکز نشانے پر، چار افراد زخمی، کشیدگی میں اضافہ

(تازہ حالات رپورٹ )
یوکرین کے شمال مشرقی صوبے سومی اوبلاست میں روسی ڈرون اور ممکنہ میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم چار افراد زخمی ہوگئے جبکہ طبی اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔ مقامی حکام کے مطابق حملے 14 اور 15 فروری کی درمیانی شب سے شروع ہوئے اور مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
طبی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا
سومی کے گورنر اولیہ ہریہوریو نے بتایا کہ ایک روسی ڈرون نے شہر سومی میں ایک طبی تنصیب کو نشانہ بنایا، جس سے عمارت کو نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ رواں ہفتے میں صحت کے مراکز پر یہ دوسرا حملہ ہے، جس سے ہنگامی طبی خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔
یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ صحت کے مراکز پر حملے بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتے ہیں، کیونکہ جنگی حالات میں بھی طبی تنصیبات کو تحفظ حاصل ہوتا ہے۔

مختلف علاقوں میں شہری زخمی
اوختیرکا کمیونٹی میں روسی حملے کے نتیجے میں دو خواتین اور ایک مرد زخمی ہوئے۔ اسی دوران ویلیکاپیساریوکا میں ایک 43 سالہ خاتون اس وقت زخمی ہوئیں جب ایک شہری گاڑی کو نشانہ بنایا گیا۔ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، تاہم ان کی حالت کے بارے میں تفصیلات محدود ہیں۔
یوکرینی فضائیہ نے دن بھر سومی ریجن کے مختلف علاقوں میں ڈرون خطرے کے الرٹس جاری کیے۔ حکام نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت کی۔
توانائی اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ
صدر وولودیمیر زیلنسکی کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران روس نے یوکرین پر تقریباً 1,300 حملہ آور ڈرون، 1,200 سے زائد گائیڈڈ بم اور درجنوں بیلسٹک میزائل داغے۔ ان کا کہنا ہے کہ توانائی کے نظام، بجلی گھروں اور رہائشی علاقوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس سے شہری زندگی شدید متاثر ہو رہی ہے۔

سومی اوبلاست روسی سرحد کے قریب واقع ہے اور مکمل جنگ کے آغاز سے مسلسل حملوں کی زد میں رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق سرحدی علاقوں پر دباؤ بڑھا کر روس یوکرینی دفاعی وسائل کو مختلف محاذوں پر تقسیم کرنے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔
انسانی بحران کے خدشات
طبی مراکز اور شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کے باعث خطے میں انسانی بحران کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے بین الاقوامی برادری سے فضائی دفاعی نظام اور ہنگامی امداد میں اضافے کی اپیل کی ہے۔
جنگ کے تیسرے سال میں داخل ہونے کے ساتھ ہی سومی اور دیگر سرحدی علاقوں میں عدم تحفظ اور غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ فضائی حملوں کا سلسلہ رکنے کے آثار دکھائی نہیں دے رہا۔



