
(تازہ حالات رپورٹ )
عالمی منڈی میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی، جب سرمایہ کاروں نے امریکا اور ایران کے درمیان جنیوا میں ہونے والے متوقع جوہری مذاکرات اور اوپیک پلس کی ممکنہ پیداوار میں اضافے کے اثرات کا جائزہ لیا۔
برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً 0.3 فیصد کم ہو کر 67.52 ڈالر فی بیرل رہی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) بھی معمولی کمی کے ساتھ 62.72 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ گزشتہ ہفتے بھی دونوں عالمی بینچ مارکس میں کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جس کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان تھا کہ واشنگٹن آئندہ مہینے کے دوران تہران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچ سکتا ہے۔
جنیوا مذاکرات اور مارکیٹ کی بے چینی
امریکا اور ایران کے حکام منگل کو جنیوا میں جوہری پروگرام پر دوسرے دور کی بات چیت کریں گے۔ اس کا مقصد کشیدگی کم کرنا اور کسی ممکنہ فوجی تصادم سے بچنا ہے۔ ایرانی سفارتی ذرائع کے مطابق مذاکرات میں توانائی، معدنیات میں سرمایہ کاری اور ہوائی جہازوں کی خریداری جیسے معاملات بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔

تاہم، دوسری جانب امریکا نے خطے میں اپنا فوجی وجود بڑھا دیا ہے، جس میں ایک اور طیارہ بردار بحری جہاز کی تعیناتی شامل ہے۔ امریکی حکام کے مطابق اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو طویل فوجی مہم کا امکان بھی زیر غور ہے۔ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
اوپیک پلس کا کردار
مارکیٹ کی سمت کا تعین صرف سفارتی پیش رفت سے نہیں ہو رہا۔ ذرائع کے مطابق تیل پیدا کرنے والے ممالک کے اتحاد اوپیک پلس یکم مارچ کے اجلاس میں اپریل سے پیداوار بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔ اگر ایسا ہوا تو سپلائی میں اضافہ قیمتوں پر دباؤ ڈال سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بڑھی تو برینٹ کی قیمت 80 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے، جبکہ ماحول بہتر ہونے کی صورت میں قیمتیں 60 ڈالر کی سطح تک واپس آ سکتی ہیں۔
عالمی مالیاتی سرگرمی محدود
چین، جنوبی کوریا اور تائیوان میں قمری سالِ نو کی تعطیلات اور امریکا میں پریزیڈنٹس ڈے کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرگرمی نسبتاً سست رہی، جس کا اثر بھی قیمتوں کی محدود حرکت پر دیکھا گیا۔



