عالمی منظر نامہ: ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں اضافہ، خطے میں فوجی متحرکیاں

ایران میں امریکی فوجی کمانڈوز کو اتارنے کا فیصلہ:
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات کے پیش نظر، ایران میں امریکی فوجی تعینات کرنے کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق، امریکی کمانڈوز اور بحری بیڑے ایران میں تعینات کیے جا سکتے ہیں تاکہ جوہری اور میزائل تنصیبات پر حملے کی تیاری ہو۔
خطے میں عالمی طاقتوں کی سرگرمیاں:
سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی ثالثی کوششیں جاری ہیں۔ سعودی ولی عہد کے بھائی اور اسرائیلی انٹیلی جنس چیف ایک ہی وقت میں امریکہ کے دورے پر ہیں، جہاں وہ ایران سے متعلق امریکی حکام سے الگ الگ ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ہنگامی دورے پر ترکی کا دورہ کیا تاکہ خطے میں ممکنہ جنگ بندی اور فوجی تعاون کے حوالے سے بات چیت کی جا سکے۔

پاکستان کے وزیراعظم نے بھی ایرانی صدر سے رابطہ کیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ کے خلاف سرگرم ہے اور جنگ بندی کی کوششیں کر رہا ہے۔
امریکی اقدامات اور پابندیاں:
امریکی وزارت خارجہ نے ایران کے سفارتکاروں اور ان کے اہل خانہ پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں، جبکہ کئی ایرانی سفیروں کے ویزے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق، صدر ٹرمپ ایران کی جوہری تنصیبات، میزائل سائٹس اور ممکنہ مظاہرین کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
ایران اور اتحادی ممالک کی فوجی تیاری:

ایران نے چین اور روس کے ساتھ مل کر بحر عمان میں مشترکہ فوجی مشقیں شروع کر دی ہیں، جس کا مقصد امریکہ سے طویل جنگ کے لیے منصوبہ بندی کو مضبوط بنانا ہے۔
رائٹرز کے مطابق، ایران نے 1000 سے زائد ڈرون فوج تیار کر لی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف فوری ردعمل دیا جا سکے۔
عالمی سیاسی ردعمل:
سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان نے ہنگامی دورہ کیا اور امریکی اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں تاکہ ایران–امریکہ کشیدگی کو قابو میں لایا جا سکے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ساری دنیا جنگ روکنے کے لیے کوشاں ہے، جبکہ یورپی ممالک خطے میں کشیدگی بڑھانے میں سرگرم ہیں۔
قریب المدت پیش گوئی:
ماہرین کے مطابق، ایران–اسرائیل اور ایران–امریکہ کشیدگی میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے، اور خطے میں فوجی مشقیں اور عسکری تیاریاں جاری رہیں گی۔ بین الاقوامی ثالثی کوششیں، خاص طور پر سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کی جانب سے، اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔
کلیدی نکات:
امریکی فوجی بیڑے ایران کے قریب تعینات، کمانڈوز کی ممکنہ تعیناتی
سعودی، اسرائیلی اور ترک ثالثی کی سرگرمیاں
ایران اور اتحادی ممالک کی فوجی مشقیں اور ڈرون فورس کی تیاری
امریکی پابندیاں اور سفارتی دباؤ
خطے میں کشیدگی کے اثرات عالمی سیاست اور معیشت پر



