
(تازہ حالات رپورٹ )
مقبوضہ بیت المقدس: اسرائیلی امور کے ماہر اور مبصر یونی بن مناحم نے دعویٰ کیا ہے کہ لبنان میں حالیہ فضائی حملوں اور ٹارگٹ کلنگز کا براہِ راست تعلق ایران کے خلاف ممکنہ بڑی فوجی کارروائی کی تیاریوں سے ہے۔ ان کے مطابق اسرائیل اس خدشے کے تحت پیشگی اقدامات کر رہا ہے کہ اگر ایران سے مذاکرات ناکام ہوئے یا امریکا نے حملہ کیا تو خطے میں وسیع جنگ چھڑ سکتی ہے۔
ایک اسرائیلی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بن مناحم کا کہنا تھا کہ اسرائیل نہ صرف لبنان میں مخصوص شخصیات کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ زیرِ زمین اسلحہ گوداموں اور راکٹ ذخائر پر بھی حملے کر رہا ہے۔ ان کے بقول، اسرائیلی فوج کی تشویش یہ ہے کہ کسی بھی امریکی یا اسرائیلی کارروائی کی صورت میں ایران اپنے اتحادی گروہوں، خصوصاً حزب اللہ اور عراق کی ملیشیاؤں کو متحرک کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل حزب اللہ کو ایران کے علاقائی نیٹ ورک میں سب سے بڑا خطرہ سمجھتا ہے، اسی لیے اس کی عسکری صلاحیت کمزور کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بن مناحم کے اندازے کے مطابق ایران سے جاری سفارتی عمل اگر ناکام ہوا تو چند دنوں میں صورتحال فوجی فیصلے کی طرف بڑھ سکتی ہے، کیونکہ دونوں فریق سخت مؤقف اپنائے ہوئے ہیں۔
رمضان میں سکیورٹی خدشات
اسرائیلی تجزیہ کار نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ رمضان کے مہینے میں کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر ایران کے خلاف کوئی بڑا حملہ ہوتا ہے تو اسے “اسلام کی توہین” کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، جس سے انفرادی نوعیت کے حملوں، جیسے گاڑی چڑھا دینے یا چاقو حملوں، کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
وسیع تر تناظر
حالیہ ہفتوں میں خطے میں فوجی سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ خلیج فارس میں امریکی بحری موجودگی بڑھی ہے جبکہ ایران بھی آبنائے ہرمز کے قریب مشقیں کر رہا ہے۔ ایسے میں لبنان، شام اور عراق کی صورتحال بھی حساس بنی ہوئی ہے۔

دوسری جانب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام پر بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں، تاہم کسی حتمی پیش رفت کا اعلان تاحال نہیں ہوا۔ مبصرین کے مطابق سفارتی عمل کے ساتھ ساتھ عسکری تیاریوں کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطہ ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔
اگرچہ اسرائیلی حکومت نے ان دعوؤں پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، لیکن تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں کسی بھی غلط اندازے یا محدود جھڑپ کے وسیع تصادم میں بدلنے کا خدشہ موجود ہے۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور آئندہ دنوں میں مزید اہم پیش رفت متوقع ہے۔



