شمالی کوریا نے 50 جدید راکٹ لانچرز متعارف کرا دیے، اہم پارٹی کانگریس سے قبل طاقت کا مظاہرہ

(تازہ حالات رپورٹ )
پیانگ یانگ: شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن نے حکمران ورکرز پارٹی کی آئندہ اہم کانگریس سے چند روز قبل درجنوں جوہری صلاحیت کے حامل راکٹ لانچرز کی نمائش کر کے ایک بار پھر خطے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے سی این اے کے مطابق بدھ کے روز دارالحکومت پیانگ یانگ میں منعقدہ تقریب کے دوران 600 ملی میٹر کیلیبر کے 50 ملٹی پل راکٹ لانچرز پیش کیے گئے۔ کم جونگ اُن نے ان ہتھیاروں کو “شاندار” اور “دلکش” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام اسٹریٹجک مقاصد کے لیے نہایت موزوں ہے۔
ریاستی میڈیا کے مطابق یہ جدید لانچر مصنوعی ذہانت (AI) ٹیکنالوجی اور جدید رہنمائی نظام سے لیس ہیں۔ کم جونگ اُن کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیار کسی بھی بیرونی خطرے کو روکنے اور دشمن کو زیر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کانگریس سے قبل طاقت کا پیغام
یہ پیش رفت ورکرز پارٹی کی نویں کانگریس سے عین قبل سامنے آئی ہے، جو ہر پانچ سال بعد منعقد ہوتی ہے اور اسے ملک کا سب سے اہم سیاسی اجتماع سمجھا جاتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس کانگریس میں آئندہ پانچ برسوں کے لیے خارجہ پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور جوہری پروگرام سے متعلق اہداف طے کیے جائیں گے۔

کم جونگ اُن نے اشارہ دیا ہے کہ کانگریس “خود انحصار دفاعی پالیسی” کے اگلے مرحلے کا اعلان کرے گی اور فوجی صلاحیتوں میں مسلسل اضافے کو تیز کیا جائے گا۔
جنوبی کوریا اور امریکہ کے لیے پیغام؟
دفاعی ماہرین کے مطابق 600 ملی میٹر راکٹ سسٹم تقریباً 400 کلومیٹر تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے ذریعے جنوبی کوریا کا تقریباً پورا علاقہ نشانے پر آ سکتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ان راکٹس کو ٹیکٹیکل جوہری وارہیڈ سے لیس کیا جائے تو چند فائر ہی کسی بڑے فوجی اڈے کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہو سکتے ہیں۔

سیئول میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا کی عسکری سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ چند برسوں سے کشیدہ ہیں، اور 2019 میں امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیانگ یانگ نے جنوبی کوریا سے تقریباً تمام تعاون معطل کر دیا تھا۔
سرحدی کشیدگی میں اضافہ
دوسری جانب کم جونگ اُن کی بہن کم یو جونگ نے جنوبی کوریا کی جانب سے مبینہ ڈرون دراندازی کے معاملے پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شمالی کوریا اپنی سرحدی سکیورٹی مزید مضبوط کر رہا ہے۔ جنوبی کوریا نے سرکاری طور پر ان الزامات کی تردید کی ہے، تاہم کچھ شہریوں کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔

خطے میں بڑھتی ہوئی بے چینی
مبصرین کے مطابق شمالی کوریا کی یہ تازہ نمائش نہ صرف داخلی سیاسی اجتماع کے لیے طاقت کا مظاہرہ ہے بلکہ امریکہ اور جنوبی کوریا کے لیے واضح پیغام بھی ہے کہ پیانگ یانگ اپنی دفاعی اور ممکنہ جوہری صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے۔
آئندہ چند دنوں میں پارٹی کانگریس کے آغاز کے ساتھ ہی یہ واضح ہو جائے گا کہ کم جونگ اُن خطے کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں کون سی نئی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں۔



