
(تازہ حالات رپورٹ )
واشنگٹن/ماسکو: ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک امریکی سابق فوجی افسر نے خبردار کیا ہے کہ کسی ممکنہ جنگ کی صورت میں خطے میں تعینات امریکی افواج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
اگر ایران گرگیا امریکی حملے سے تو یہ روس چین کے لیے تباہی ہوگا – اس لیے روس چین ایران کو گرنے نہیں دیں گے
گزشتہ سال جون کی 12 روزہ لڑائی میں ایران نے اسرائیل کو 6 فیصد نقصان پہنچایا تھا اگر مکمل جنگ چھڑی تو بہت بڑی تباہی ہوگی – اسرائیل چھوٹا ملک ہے اور ایران اپنا ٹارگٹ کبھی مس نہیں کرے گا – سابق امریکی فوجی افسر اسٹینسلاو کرپیونک کی روسی میڈیا RT سے گفتگو
سابق امریکی آرمی افسر اسٹینسلاو کریپیونک نے روسی نشریاتی چینل آر ٹی کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں نصب امریکی میزائل دفاعی نظام، خاص طور پر تھاڈ (THAAD) بیٹریاں، کسی بھی بڑے تنازع میں براہِ راست نشانہ بن سکتی ہیں۔ ان کے بقول اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ چھڑتی ہے تو ان دفاعی نظاموں کو چلانے والے امریکی اہلکار بھی خطرے کی زد میں آ سکتے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایسی صورت میں ہزاروں امریکی فوجیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق ممکنہ ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد نمایاں ہو سکتی ہے۔ تاہم یہ ایک تجزیاتی رائے ہے اور اس کی سرکاری سطح پر کوئی تصدیق نہیں کی گئی۔

روس اور چین کے حوالے سے دعویٰ
کریپیونک نے یہ بھی کہا کہ اگر ایران کی حکومت کمزور یا ختم ہوتی ہے تو اسے روس اور چین کے لیے “وجودی خطرہ” تصور کیا جا سکتا ہے، کیونکہ ایران خطے میں ان دونوں ممالک کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار ہے۔ ان کے مطابق حالیہ روس۔ایران بحری مشقیں ایک واضح پیغام ہیں کہ خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کرنے کی کسی بھی کوشش کو چیلنج کیا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن میں بحث
امریکی پالیسی حلقوں میں اس وقت ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی اور اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کا بنیادی مقصد اپنے مفادات اور اتحادیوں کا تحفظ ہے، جبکہ دیگر حلقے کسی طویل اور مہنگی جنگ سے گریز کی وکالت کر رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی، میزائل دفاعی نظاموں کی تنصیب اور بحری بیڑوں کی تعیناتی کا مقصد بظاہر باز deterrence یعنی روک تھام ہے، تاہم کسی بھی غلط اندازے یا اشتعال انگیزی سے صورتحال تیزی سے بگڑ سکتی ہے۔
سفارتی راستہ یا فوجی تصادم؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششیں اس کشیدہ ماحول میں نہایت اہم ہیں۔ اگر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں تو خطے میں طاقت کے بڑے مراکز — امریکا، ایران، اسرائیل، روس اور چین — براہِ راست یا بالواسطہ طور پر ایک بڑے بحران میں الجھ سکتے ہیں۔
فی الحال سرکاری سطح پر کسی فوری جنگی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن دفاعی تیاریوں اور سخت بیانات نے عالمی سطح پر خدشات کو ضرور بڑھا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق آئندہ چند ہفتے خطے کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔



