
واشنگٹن/اسلام آباد:(تازہ حالات رپورٹ ) وزیراعظم شہباز شریف اپنے دورہ امریکہ کے دوران ایک انتہائی اہم اور حساس سفارتی مشن پر ہیں۔ واشنگٹن میں ہونے والی اعلیٰ سطحی بیٹھک سے قبل پاکستان نے اپنا اصولی موقف واضح کرنے کا فیصلہ کیا ہے کہ غزہ میں اس کے فوجی دستے صرف ’امن مشن‘ (Peacekeeping) کا حصہ بنیں گے، انہیں حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی بھی متنازعہ منصوبے میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق، یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم شہباز شریف جمعرات کو واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قائم کردہ ’بورڈ آف پیس‘ (امن بورڈ) کے پہلے رسمی اجلاس میں شرکت کے لیے تیار ہیں۔ اس اجلاس میں کم از کم 20 ممالک کے وفود کی شرکت متوقع ہے۔
پاکستان کا دو ٹوک موقف: ’امن مشن ہاں، حماس کے خلاف کارروائی نہیں‘
اس دورے کی حساسیت سے آگاہ تین اعلیٰ حکومتی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF) کا حصہ بننے کا حتمی وعدہ کرنے سے پہلے، پاکستان امریکہ سے ٹھوس یقین دہانیاں چاہتا ہے۔
وزیراعظم کے ایک قریبی ساتھی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صورتحال کی نزاکت بیان کرتے ہوئے کہا: ”ہم فوج بھیجنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن میں یہ واضح کر دوں کہ ہمارے دستے غزہ میں صرف امن مشن کا حصہ بن سکتے ہیں۔“

انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، ”ہم کسی اور کردار کا حصہ نہیں بنیں گے، جیسے کہ حماس کو غیر مسلح کرنا۔ یہ تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔“
پاکستان چاہتا ہے کہ اپنے فوجی دستے بھجوانے سے قبل اسے انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF) کے اہداف، اس کے دائرہ اختیار اور سب سے بڑھ کر اس کے ’کمانڈ آف سٹرکچر‘ (فوجی کمان کس کے ہاتھ میں ہوگی) کے بارے میں مکمل وضاحت ملے۔
ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ اور پاکستان پر دباؤ
صدر ٹرمپ، جو اس اہم اجلاس کی صدارت کریں گے، توقع ہے کہ غزہ کے لیے اربوں ڈالر کے تعمیر نو کے پیکج اور فلسطینی علاقے میں اقوام متحدہ کی اجازت سے قائم ہونے والی ’سٹیبلائزیشن فورس‘ کے تفصیلی منصوبے کا اعلان کریں گے۔ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ بنیادی طور پر مسلم ممالک کی افواج پر انحصار کرتا ہے جو غزہ میں تعمیر نو اور اقتصادی بحالی کے عبوری دور کی نگرانی کریں گی۔

واشنگٹن کی جانب سے اسلام آباد پر اس فورس میں شامل ہونے کے لیے سفارتی دباؤ موجود ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی تجربہ کار فوج، جس کا دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں شاندار ریکارڈ ہے، اس ملٹی نیشنل فورس کے لیے ایک قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے۔
ایک ذریعے نے بتایا کہ ”ہم ابتدائی طور پر کسی بھی وقت چند ہزار فوجی بھیج سکتے ہیں، لیکن ہمیں یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ وہاں جا کر کیا کردار ادا کریں گے۔“
عوامی جذبات اور سفارتی توازن کا کٹھن امتحان
اسلام آباد کے لیے یہ فیصلہ انتہائی مشکل ہے۔ حکومت کو ایک طرف ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا موقع ہے تو دوسری طرف پاکستان کے اندر عوامی جذبات کا سمندر ہے جو فلسطینیوں کی حمایت میں شدت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اسلام آباد کو ٹرمپ کو خوش کرنے کے لیے فوج فراہم کرنے اور کسی بھی ممکنہ ملکی ردعمل کے درمیان نازک توازن قائم کرنا ہوگا۔
امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور ہڈسن انسٹی ٹیوٹ کے اسکالر حسین حقانی نے اس زمینی حقیقت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستانی عوام صرف اس صورت میں غزہ فوج بھیجنے کی حمایت کریں گے اگر وہ فلسطینیوں کے تحفظ میں مدد کرے۔“
انہوں نے خبردار کیا کہ ”اگر تعیناتی کے بعد بھی غزہ میں پیش رفت سے فلسطینیوں کی حالت بہتر نہیں ہوتی، تو پاکستان میں عوامی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔“
توقع ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف، جو اس سے قبل بھی ٹرمپ سے ملاقاتیں کر چکے ہیں، اس دورے کے دوران امریکی صدر سے سائیڈ لائنز پر یا وائٹ ہاؤس میں الگ سے ملاقات کریں گے تاکہ اس حساس معاملے پر پاکستان کا نقطہ نظر براہ راست بیان کر سکیں۔



