ایرانتازہ ترینعالمی خبریںمشرق وسطی

جشنِ انقلاب اور جنگ کی دستک: ایرانی سپریم لیڈر منظرِ عام پر، ایٹمی تنصیبات پر نئی پیش رفت

تہران: ایران میں اسلامی انقلاب کی 47 ویں سالگرہ کی دس روزہ تقریبات (عشرہ فجر) کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ ان تقریبات نے جہاں ملک بھر میں جوش و خروش پیدا کیا ہے، وہیں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے منظرِ عام پر آنے سے ان کے خلاف چلنے والی تمام تر افواہیں دم توڑ گئی ہیں۔


سپریم لیڈر کی آمد اور افواہوں کا خاتمہ

کئی ہفتوں سے مغربی میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایرانی سپریم لیڈر کی صحت کے حوالے سے قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں۔ تاہم، امام خمینی کی سالانہ تقریبات کے آغاز پر سپریم لیڈر کی عوامی موجودگی نے ان تمام افواہوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امام خمینی کے مزار پر حاضری دی اور تجدیدِ عہد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف بیرونی سازشیں ناکام ہوں گی۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا:

"ٹرمپ، نیتن یاہو اور یورپی ممالک نے مل کر ایران میں داخلی خلفشار اور فساد پھیلانے کی کوشش کی، لیکن ایرانی عوام کی بیداری نے ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔”

ایٹمی تنصیبات کی ‘سیٹلائٹ تصاویر’ اور نئی حکمتِ عملی

بین الاقوامی منظر نامے پر ایک نئی بحث اس وقت چھڑ گئی جب ایران کی دو اہم جوہری سائٹس، اصفہان اور نطنز کی تازہ ترین سیٹلائٹ تصاویر جاری کی گئیں۔ ان تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایران نے ماضی میں حملوں سے متاثرہ حصوں کی مرمت کے بعد ان پر ایسی خصوصی ‘چھتیں’ تعمیر کر دی ہیں جو فضائی نگرانی کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ اقدام زیرِ زمین ایٹمی سرگرمیوں کو دشمن کی نظروں سے محفوظ رکھنے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ اسرائیل یا امریکہ کی ممکنہ جاسوسی کو روکا جا سکے۔


عراقچی کا انتباہ: "نظام گرانے کا خواب دیکھنا چھوڑ دیں”

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ترکی کے نامور چینل ‘سی این این ترک’ کو انٹرویو دیتے ہوئے امریکہ کو دوٹوک پیغام دیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکہ ایک طرف دھمکیاں دیتا ہے اور دوسری طرف ثالثی کرنے والے ممالک کے ذریعے روزانہ تہران سے رابطے کر رہا ہے۔

عراقچی نے واضح کیا:


سخت جواب: اگر امریکہ نے کوئی غلطی کی تو ایران کا جواب "طاقتور اور سنگین” ہوگا۔

نظام کی تبدیلی: ایرانی نظام کو گرانا محض ایک وہم اور دیوانے کا خواب ہے۔

یورپ کو وارننگ: اگر یورپی یونین نے ایرانی فوج (پاسدارانِ انقلاب) کو دہشت گرد قرار دینے کی حماقت کی، تو ایران بھی جواب میں تمام یورپی افواج کو دہشت گرد قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی کا حق محفوظ رکھے گا۔

11 فروری تک جشن اور ہائی الرٹ

ایران میں 47 ویں جشنِ آزادی کی یہ تقریبات 11 فروری تک جاری رہیں گی۔ ایک طرف پورا ملک جشن کی تیاریوں میں ہے تو دوسری طرف ایرانی افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران ان تقریبات کے ذریعے اپنی عوامی طاقت کا مظاہرہ کر کے امریکہ اور اسرائیل کو یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے سرنگوں نہیں ہوں گے۔


تجزیہ: موجودہ حالات میں ایران کی دفاعی تیاریوں اور سفارتی سخت گیری سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کے لیے پوری طرح تیار ہے اور وہ اپنی ایٹمی تنصیبات کی حفاظت کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button