اسرائیلتازہ ترین

اسرائیل کی خلائی چھلانگ سینکڑوں سیٹلائٹس کو کنٹرول کرنے والی جدید ترین ٹیکنالوجی

(تازہ حالات رپورٹ )

تل ابیب — زمین سے ہزاروں کلومیٹر اوپر خلا کی خاموش فضا میں ایک ایسی دوڑ جاری ہے جو ہتھیاروں کی نہیں بلکہ ٹیکنالوجی، درستگی اور قابلِ اعتماد نظاموں کی جنگ ہے۔ یہی وہ میدان ہے جہاں اسرائیلی دفاعی کمپنی رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز نے اپنی الگ شناخت بنائی ہے۔

اسرائیلی ماہرین کے مطابق رافیل کی لیبارٹریز نے ایسے جدید انجن تیار کیے ہیں جو سیٹلائٹس کو زمین کے گرد انتہائی حساس اور اہم مداروں میں درست سمت فراہم کرتے ہیں۔ ان انجنوں کی خاص بات ان کی غیر معمولی ایندھن بچت اور طویل المدتی کارکردگی ہے، جس کی بدولت سیٹلائٹس کئی سال تک بغیر کسی بڑی خرابی کے کام کر سکتے ہیں۔

خلا میں “خاموش مقابلہ”

خلا میں سیٹلائٹس کا کام محض گردش کرنا نہیں ہوتا، بلکہ انہیں درست مدار میں برقرار رکھنا، راستہ تبدیل کرنا اور ممکنہ خطرات سے بچانا بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں رافیل کی تیار کردہ پروپلشن ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں سیٹلائٹس صرف مواصلات یا موسمی پیشگوئی تک محدود نہیں رہے، بلکہ دفاعی نگرانی، انٹیلیجنس اور نیویگیشن سسٹمز کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں۔ اس لیے ان کی حرکت پر مکمل کنٹرول کسی بھی ملک کی اسٹریٹجک برتری میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

اگلا ہدف: مکمل سیٹلائٹ کی تیاری

رپورٹس کے مطابق رافیل اب صرف انجن بنانے تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ کمپنی کا ہدف ہے کہ وہ مستقبل میں مکمل سیٹلائٹ ڈیزائن اور تیاری کے شعبے میں بھی داخل ہو۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اسرائیل کی خلائی صنعت کو مزید تقویت مل سکتی ہے اور عالمی مارکیٹ میں اس کا حصہ بڑھ سکتا ہے۔

عالمی تناظر

خلائی ٹیکنالوجی کا شعبہ تیزی سے مسابقتی بنتا جا رہا ہے۔ امریکا، چین اور یورپی ممالک پہلے ہی جدید سیٹلائٹ سسٹمز اور اینٹی سیٹلائٹ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اسرائیلی کمپنیوں کی پیش رفت کو ماہرین ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری قرار دے رہے ہیں، جو نہ صرف دفاع بلکہ معیشت کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

خلاصہ:
خلا میں موجود سینکڑوں سیٹلائٹس کے پیچھے محض اسٹیل اور الیکٹرانکس نہیں بلکہ ایک پیچیدہ ٹیکنالوجی ہے جو انہیں درست مدار میں رکھتی ہے۔ رافیل کے تیار کردہ جدید انجن اسرائیل کی اسی تکنیکی برتری کا حصہ ہیں، اور اب کمپنی مکمل سیٹلائٹ سازی کی جانب پیش قدمی کر کے خلائی دوڑ میں مزید آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button