امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کا بڑا اعلان: حکومت کو یو ایف او اور خلائی مخلوق سے متعلق فائلیں جاری کرنے کا حکم

(تازہ حالات رپورٹ )

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پینٹاگون اور دیگر وفاقی اداروں کو ہدایت دے رہے ہیں کہ وہ یو ایف اوز (نامعلوم اُڑن اشیا)، نامعلوم فضائی مظاہر (UAP) اور ممکنہ خلائی مخلوق سے متعلق تمام دستیاب سرکاری فائلوں کی نشاندہی کرکے انہیں عوام کے سامنے جاری کریں۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ان معاملات پر عوامی دلچسپی “غیر معمولی حد تک زیادہ” ہے اور اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت شفافیت کا مظاہرہ کرے۔ ان کے مطابق متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایسی تمام دستاویزات کا جائزہ لیں جو “خلائی حیات، یو ایف اوز اور غیر شناخت شدہ فضائی مظاہر” سے متعلق ہوں۔

اوباما کے بیان کے بعد ہلچل

یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سابق صدر باراک اوباما نے ایک حالیہ پوڈکاسٹ انٹرویو میں یہ کہا تھا کہ کائنات کی وسعت کو دیکھتے ہوئے خلائی زندگی کے امکانات کو مکمل طور پر رد نہیں کیا جا سکتا۔ ٹرمپ نے اس بیان پر ردعمل دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اوباما نے ممکنہ طور پر “حساس معلومات” کی طرف اشارہ کیا ہے۔

پس منظر کیا ہے؟

گزشتہ چند برسوں میں امریکی محکمہ دفاع نے بعض ایسی ویڈیوز اور رپورٹس جاری کی ہیں جن میں نامعلوم فضائی اشیا کا ذکر کیا گیا، تاہم حکام کا کہنا تھا کہ ان مظاہر کی کوئی حتمی سائنسی وضاحت نہیں کی جا سکی۔ کانگریس میں بھی اس موضوع پر سماعتیں ہو چکی ہیں اور بعض سابق فوجی افسران نے گواہی دی ہے کہ امریکی فضائی حدود میں بعض غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئیں۔

تاہم سرکاری سطح پر اب تک کسی بھی غیر زمینی مخلوق کے وجود کی تصدیق نہیں کی گئی۔

کیا سب کچھ سامنے آ جائے گا؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر واقعی مکمل ریکارڈ جاری کیا جاتا ہے تو اس میں قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات کو پہلے الگ کیا جا سکتا ہے۔ امریکی قوانین کے تحت بعض دفاعی یا انٹیلی جنس تفصیلات کو خفیہ رکھنے کی اجازت ہوتی ہے۔

دوسری جانب، یو ایف او کے موضوع پر سرگرم حلقوں اور سائنسی برادری نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم انہوں نے زور دیا ہے کہ جاری کی جانے والی معلومات کی سائنسی جانچ ضروری ہوگی۔

نتیجہ

صدر ٹرمپ کا یہ قدم عوامی تجسس اور حکومتی شفافیت کے درمیان ایک نئی بحث کو جنم دے سکتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آیا واقعی ایسی فائلیں منظرعام پر آتی ہیں جو دہائیوں سے سازشی نظریات اور قیاس آرائیوں کا موضوع بنی ہوئی ہیں—یا یہ معاملہ بھی محدود انکشافات تک ہی رہتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button