Uncategorized

گھنٹوں میں کھیل ختم” — سابق امریکی کمانڈر کا ایران پر برق رفتار حملوں کا دعویٰ

واشنگٹن: (تازہ حالات رپورٹ )امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے سابق نائب کمانڈر وائس ایڈمرل (ر) باب ہارورڈ نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اثاثوں کی غیر معمولی تعیناتی محض طاقت کا مظاہرہ نہیں بلکہ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایران کے عسکری ڈھانچے کو “چند گھنٹوں میں مفلوج” کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ایک انٹرویو میں ہارورڈ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام سے متعلق امریکی مطالبات پورے نہ ہوئے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ سفارتی کوششوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدام کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ ان کے بقول، ممکنہ ابتدائی مرحلے میں حملوں کا ہدف ایران کے اسٹریٹجک میزائل اڈے، لانچرز اور وہ تنصیبات ہوں گی جنہیں امریکی اور اسرائیلی مفادات کے لیے فوری خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

“سینکڑوں حملے روزانہ” کی صلاحیت

سابق کمانڈر کے مطابق موجودہ تعیناتی امریکا کو یہ صلاحیت دیتی ہے کہ وہ مختصر وقت میں وسیع پیمانے پر فضائی حملے کر سکے، جن میں اسٹیلتھ طیارے، کمانڈ اینڈ کنٹرول پلیٹ فارمز اور میزائل دفاعی نظام شامل ہوں گے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی کسی کارروائی میں جدید طیارے جیسے ایف-35، ایف-22 اور بی-2 بمبار اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جبکہ سمندر میں موجود طیارہ بردار بحری بیڑے بھی حصہ لے سکتے ہیں۔

پس منظر: بڑھتی کشیدگی

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں امریکی افواج اور فضائی اثاثوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور اتحادی ممالک کا دفاع یقینی بنانا ہے، جبکہ تہران بارہا کہہ چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق کسی بھی ممکنہ کارروائی کے اثرات صرف فوجی نہیں بلکہ سیاسی اور معاشی بھی ہو سکتے ہیں، خاص طور پر تیل کی عالمی منڈی اور خلیجی خطے کے استحکام پر۔

سفارت یا تصادم؟

امریکی حکام اب بھی سفارتی راستے کو ترجیح دینے کی بات کرتے ہیں، تاہم سخت بیانات اور فوجی تیاریوں نے یہ واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن تمام آپشنز میز پر رکھے ہوئے ہے۔ سوال یہ ہے کہ آیا بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں دباؤ کی حکمتِ عملی ہیں یا خطہ واقعی ایک بڑے تصادم کے دہانے پر کھڑا ہے۔

Show More

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button