ایرانتازہ ترین

بڑھتا ہوا خطرہ: ایران کے راکٹ پروگرام نے اسرائیل کو خبردار کر دیا

(تازہ حالات رپورٹ )

تل ابیب: اسرائیلی دفاعی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں تیزی سے اضافہ اسرائیل کے لیے فوری اور سنگین سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے، اور اگر یہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

اسرائیلی فوج (IDF) کے سینئر عہدیداروں کے مطابق ایران 2027 تک کم از کم 5 ہزار بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ حاصل کر سکتا ہے، جبکہ اس وقت ہر ماہ تقریباً 100 میزائل تیار کیے جا رہے ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق اگر 2025 میں کی گئی کارروائیوں اور رکاوٹ ڈالنے کی کوششوں کے ذریعے ایرانی پیداوار کو محدود نہ کیا جاتا تو یہ تعداد دہائی کے اختتام تک 8 ہزار کے قریب پہنچ سکتی تھی۔

تہہ در تہہ دفاع، مگر مکمل تحفظ نہیں

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلنگ اور ایرو جیسے کئی سطحی فضائی دفاعی نظام موجود ہیں، تاہم اگر ایران کی جانب سے بڑے پیمانے پر مسلسل میزائل حملے کیے جائیں تو مکمل طور پر نقصان سے بچنا ممکن نہیں ہوگا۔

MICHAEL.SHVADRON

ایک دفاعی اہلکار کے بقول، “کوئی بھی دفاعی نظام سو فیصد محفوظ نہیں ہوتا۔ اگر ایک ساتھ سینکڑوں میزائل داغے جائیں تو کچھ نہ کچھ نقصان کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔”

امریکا سے پسِ پردہ رابطے

ذرائع کے مطابق اسرائیلی فوجی قیادت نے امریکی ہم منصبوں کے ساتھ بند کمرہ ملاقاتوں میں ایران کے میزائل پروگرام کو جوہری مسئلے سے بھی زیادہ فوری خطرہ قرار دیا ہے۔ جہاں واشنگٹن اس وقت تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، وہیں تل ابیب کا کہنا ہے کہ بیلسٹک میزائلوں کی بڑھتی تعداد خطے میں طاقت کے توازن کو براہِ راست متاثر کر سکتی ہے۔

خطے میں کشیدگی کا پس منظر

یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں پہلے ہی کشیدگی موجود ہے اور ایران و اسرائیل کے درمیان حالیہ برسوں میں براہِ راست اور بالواسطہ کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو میزائل پروگرام کسی بھی ممکنہ تنازعے میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے۔

آگے کیا؟

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل دو راستوں پر بیک وقت کام کر رہا ہے:

دفاعی نظام کو مزید مضبوط بنانا

ایران کی میزائل پیداوار کو محدود کرنے کے لیے خفیہ یا سفارتی ذرائع استعمال کرنا

تاہم حکام تسلیم کرتے ہیں کہ صرف دفاعی نظام پر انحصار کافی نہیں ہوگا، اور طویل المدتی حل کے لیے سفارتی اور اسٹریٹجک اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

اسرائیلی سکیورٹی اداروں کا مؤقف ہے کہ آئندہ دو سے تین سال خطے کی سلامتی کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں، اور میزائلوں کی بڑھتی دوڑ کو روکنا عالمی طاقتوں کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بنتا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button