تازہ ترینترکی

ترکی کا نیا چہرہ: تاریخ میں پہلی بار باحجاب خاتون اہم ترین سکیورٹی عہدے پر فائز

انقرہ:(تازہ حالات رپورٹ ) ترکی میں ایک نئے صدارتی حکم نامے نے تاریخ رقم کر دی ہے۔ جدید ترکی کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی باحجاب خاتون کو ریاست کے انتہائی حساس اور اعلیٰ ترین سکیورٹی عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔

صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق، محترمہ ’کبرا گوران یعیت باشی‘ (Kübra Güran Yiğitbaşı) کو ترکی کی نائب وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔ یہ تقرری اس لحاظ سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے کہ ترکی کی بیوروکریسی اور سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں اتنے اعلیٰ مقام پر اس سے قبل کوئی باحجاب خاتون فائز نہیں رہی ہیں۔

تدریجی تبدیلی کا سفر

یہ پیش رفت اچانک نہیں ہوئی بلکہ یہ گزشتہ دو دہائیوں سے جاری سماجی اور سیاسی تبدیلیوں کا تسلسل ہے۔ چار سال قبل بھی صدر ایردوان نے ایک روایت شکنی کرتے ہوئے کبرا گوران کو ’افیون قره حصار‘ (Afyonkarahisar) صوبے کا گورنر مقرر کیا تھا۔ اس وقت بھی وہ ترکی کی تاریخ میں گورنر (جو کہ ایک سکیورٹی ڈائریکٹر کا کردار بھی ہوتا ہے) کے عہدے پر فائز ہونے والی پہلی باحجاب خاتون تھیں۔

ڈاکٹر کبرا گوران ایک مضبوط اکاڈیمک پس منظر رکھتی ہیں اور اب بیوروکریسی کے اعلیٰ ترین ایوانوں میں اپنی جگہ بنا چکی ہیں۔

دو دہائیاں قبل کا ترکی: ایک مختلف تصویر

آج کی یہ خبر شاید نئی نسل کے لیے ایک معمول کی بات ہو، لیکن محض بیس سال پہلے کے ترکی میں ایسی کسی خبر کا تصور بھی محال تھا۔ وہ ایک ایسا دور تھا جب ریاستی اداروں اور نظام پر سخت گیر سیکولرازم کی گرفت انتہائی مضبوط تھی۔

دو دہائیاں قبل ترکی میں باحجاب خواتین کے لیے یونیورسٹیوں کے دروازے بند تھے۔ سرکاری ملازمتوں میں ان کا داخلہ ممنوع تھا، اور پولیس یا فوج جیسے اداروں میں شمولیت تو ایک دیوانے کا خواب معلوم ہوتا تھا۔

تاریخ گواہ ہے کہ اس وقت کے سخت قوانین کی وجہ سے خود موجودہ صدر ایردوان کو، جب وہ وزیراعظم تھے، اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک بھیجنا پڑا کیونکہ حجاب کی وجہ سے ترکی کی کسی یونیورسٹی میں ان کا داخلہ ممکن نہ تھا۔ یہاں تک کہ اگر کوئی باحجاب خاتون عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر پارلیمنٹ پہنچ جاتی، تو اسے ایوان سے بے دخل کر کے رکنیت منسوخ کر دی جاتی تھی۔

نئے دور کا آغاز

گزشتہ بیس برسوں میں ترکی کے سماجی و سیاسی منظرنامے میں ڈرامائی تبدیلیاں آئی ہیں۔ صدر ایردوان اور ان کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) نے بتدریج پالیسیاں مرتب کیں جن کا مقصد معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان برابری اور انصاف کے اصولوں کو مضبوط کرنا تھا۔

ان پالیسیوں کا محور باحجاب خواتین کے خلاف دہائیوں سے جاری امتیازی سلوک کا خاتمہ، انہیں قومی دھارے سے دور رکھنے کے عمل کو روکنا اور قومی تعمیر و ترقی میں ان کی شرکت کو یقینی بنانا تھا۔

آج تعلیمی اداروں سے لے کر سرکاری دفاتر، پولیس اور اب وزارت داخلہ کی اعلیٰ ترین سطح تک باحجاب خواتین کی موجودگی ترکی میں آنے والی اس بڑی تبدیلی کا واضح ثبوت ہے، جہاں اب اہلیت کو ظاہری حلیے پر ترجیح دی جا رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button