تازہ ترینترکیدفاع

ڈرون طاقت میں ترکی نمبر ون: نیٹو کی بڑی مشقوں میں بھی برتری کا دعویٰ

(تازہ حالات رپورٹ)

برلن: ترکی کے چیف آف جنرل اسٹاف نے کہا ہے کہ ترک مسلح افواج جنگی اور غیر جنگی ڈرون سسٹمز کے استعمال انتظام اور ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر پہلی پوزیشن پر ہیں۔ یہ بیان جرمنی میں نیٹو کی سال کی سب سے بڑی لائیو فائر مشق "اسٹیڈ فاسٹ ڈارٹ 2026” کے موقع پر دیا گیا۔

ترک فوجی قیادت کے مطابق، مشقوں میں شریک ترک دستوں نے زمینی، بحری اور فضائی شعبوں میں تمام آپریشنز کامیابی سے مکمل کیے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مشق میں استعمال ہونے والے ہتھیار، آلات اور نظام مکمل طور پر مقامی طور پر تیار کردہ تھے، جو ترکی کی دفاعی صنعت کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کا مظہر ہیں۔

نیٹو کی مشترکہ کمان کے تحت 8 سے 20 فروری تک جرمنی میں منعقد ہونے والی ان مشقوں کو رواں سال کی سب سے بڑی اور جامع عملی سرگرمی قرار دیا جا رہا ہے۔ ترکی نے ان مشقوں میں تقریباً دو ہزار فوجیوں کے ساتھ حصہ لیا، جن میں بری اور بحری افواج کے یونٹس شامل تھے۔

ترک فوجی حکام کے مطابق، مشقوں کا مقصد اتحادی ممالک کی مشترکہ کارروائیوں کی صلاحیت کو بہتر بنانا، تیز رفتار تعیناتی کے نظام کا جائزہ لینا اور کمانڈ اینڈ کنٹرول میکانزم کو مضبوط کرنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف افواج کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی آپریشنل استعداد کو بھی جانچا گیا۔

ترکی گزشتہ چند برسوں میں ڈرون ٹیکنالوجی کے میدان میں تیزی سے ابھرا ہے، اور اس کے تیار کردہ بغیر پائلٹ فضائی نظام مختلف خطوں میں توجہ حاصل کر چکے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، مقامی دفاعی صنعت میں سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے نے ترکی کو اس شعبے میں نمایاں مقام دلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

نیٹو کے اعلیٰ فوجی عہدیداروں کی جانب سے بھی ترک افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا گیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت ترکی کی دفاعی حکمتِ عملی اور ٹیکنالوجی پر مبنی عسکری صلاحیت کو اجاگر کرتی ہے، جو نہ صرف نیٹو بلکہ علاقائی سلامتی کے تناظر میں بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button