امریکاتازہ ترینسعودی عربسعودیہ

امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ’123 معاہدہ‘ کی تیاری، سول جوہری تعاون میں بڑی پیش رفت

(تازہ حالات رپورٹ)

واشنگٹن سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس کو آگاہ کیا ہے کہ وہ سعودی عرب کے ساتھ سول جوہری تعاون کے لیے معروف "123 معاہدہ” پر دستخط کرنے جا رہی ہے۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان توانائی اور اسٹریٹیجک شراکت داری میں اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکی قانون کے تحت کسی بھی ملک کے ساتھ سول نیوکلیئر تعاون کے لیے 123 معاہدہ ضروری ہوتا ہے، جو جوہری مواد، ٹیکنالوجی اور ری ایکٹرز کی فراہمی کے قواعد و ضوابط طے کرتا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس معاہدے سے امریکی کمپنیاں سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام میں مرکزی کردار ادا کر سکیں گی، جس سے امریکی نیوکلیئر انڈسٹری کو بھی معاشی فائدہ متوقع ہے۔

رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ فریم ورک میں یورینیم افزودگی (enrichment) کے امکان کو مکمل طور پر خارج نہیں کیا گیا، تاہم اس حوالے سے حتمی شرائط اور نگرانی کے نظام پر بات چیت جاری رہنے کا امکان ہے۔ یہی پہلو ماضی میں امریکا اور دیگر ممالک کے درمیان جوہری معاہدوں میں حساس تصور کیا جاتا رہا ہے، کیونکہ افزودگی کی صلاحیت کو دوہری استعمال (سول و عسکری) ٹیکنالوجی سے جوڑا جاتا ہے۔

سعودی عرب طویل عرصے سے اپنے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے اور تیل پر انحصار کم کرنے کے منصوبوں پر کام کر رہا ہے۔ وژن 2030 کے تحت جوہری توانائی کو مستقبل کے توانائی مکس کا حصہ بنانے کی حکمت عملی سامنے آ چکی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ سول جوہری پروگرام کا مقصد بجلی کی پیداوار اور صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ نہ صرف توانائی کے شعبے میں تعاون کو وسعت دے گا بلکہ مشرقِ وسطیٰ میں اسٹریٹیجک توازن اور سفارتی تعلقات پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ تاہم کانگریس کی منظوری اور شرائط کی تفصیلات سامنے آنے تک حتمی صورت حال واضح نہیں ہوگی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جوہری توانائی، سیکیورٹی اور عدم پھیلاؤ (نان پرو لیفریشن) کے معاملات عالمی سفارت کاری کا اہم موضوع بنے ہوئے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button