
(تازہ حالات رپورٹ )
امریکا کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے خبردار کیا ہے کہ ایران مبینہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کے لیے درکار مواد حاصل کرنے سے صرف ایک ہفتے کی دوری پر ہو سکتا ہے، اور یہ صورتحال واشنگٹن کے لیے واضح “سرخ لکیر” ہے۔
امریکی ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں وِٹکوف نے کہا کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی 60 فیصد تک افزودگی تشویش کا باعث ہے۔ ان کے بقول اگر تہران کا مؤقف صرف سویلین جوہری پروگرام تک محدود ہے تو پھر اتنی بلند سطح کی افزودگی کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے دروازے کھلے رکھے ہیں، تاہم ساتھ ہی واضح حدود بھی متعین کر دی ہیں۔ “ہم چاہتے ہیں کہ ایران اپنے افزودہ مواد کے حوالے سے شفافیت دکھائے اور عملی اقدامات کے ذریعے ثابت کرے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنا چاہتا،” وِٹکوف نے زور دیا۔

مذاکرات یا محاذ آرائی؟
امریکی انتظامیہ کے مطابق خطے میں بحری اور فضائی طاقت کی نمایاں موجودگی ایران پر دباؤ کا حصہ ہے، مگر اس کے باوجود تہران کو اپنے مؤقف میں لچک دکھانے پر آمادہ کرنا آسان نہیں۔ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق توقع ہے کہ ایران آئندہ دنوں میں تحریری تجویز پیش کر سکتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا ہے کہ تہران بھی جلد اپنا جوابی مسودہ پیش کرے گا تاکہ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا سکے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ پابندیوں کے خاتمے کے بدلے محدود اقدامات پر بات چیت کو تیار ہے۔

بڑھتی کشیدگی، غیر یقینی فضا
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے۔ ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں، تو دوسری جانب فوجی تیاریوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
فی الحال واشنگٹن اور تہران دونوں کی نظریں آئندہ چند دنوں پر مرکوز ہیں، جہاں کسی بھی پیش رفت یا تعطل کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور توانائی منڈیوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں



