
(تازہ حالات رپورٹ )
ایران نے اشارہ دیا ہے کہ اگر امریکا اقتصادی پابندیوں میں نرمی کرے اور پرامن جوہری افزودگی کے حق کو تسلیم کرے تو وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے رعایت دینے پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا ہے کہ تہران حالیہ تعطل کے بعد اب نئی تجاویز پیش کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ ممکنہ فوجی تصادم سے بچا جا سکے۔
نئے امکانات، پرانے اختلافات
ایرانی عہدیدار کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان اب بھی پابندیوں کے خاتمے کے طریقۂ کار اور وقت کے تعین پر شدید اختلافات موجود ہیں۔ تاہم تہران سفارت کاری کو زندہ رکھنے کے لیے “تازہ رعایتیں” دینے پر تیار ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران اس بات پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے کہ:
- اپنے سب سے زیادہ افزودہ یورینیم کا تقریباً نصف حصہ بیرونِ ملک بھیج دے،
- باقی مقدار کو کم درجے تک تحلیل (dilute) کرے،
- اور خطے میں مشترکہ افزودگی کے کسی کنسورشیم کا حصہ بنے۔
یہ اقدامات اس شرط سے مشروط ہوں گے کہ امریکا ایران کے “پرامن جوہری افزودگی” کے حق کو تسلیم کرے اور اقتصادی پابندیاں مرحلہ وار ختم کرے۔

اقتصادی پیکج کی پیشکش
ایرانی عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ مذاکراتی پیکج میں امریکی کمپنیوں کو ایران کے تیل و گیس کے شعبے میں بطور کنٹریکٹر سرمایہ کاری کے مواقع دینے کی پیشکش بھی شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ ایک ایسا فریم ورک ہو سکتا ہے جس سے دونوں ممالک کو اقتصادی فائدہ پہنچے۔ تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے تیل اور معدنی وسائل پر کنٹرول کسی صورت نہیں چھوڑے گا۔
واشنگٹن کا مؤقف
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اب بھی “زیرو افزودگی” کی شرط پر قائم ہے، جو ماضی کی طرح اس بار بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ ہے۔ امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے حالیہ انٹرویو میں سوال اٹھایا کہ ایران بڑھتے دباؤ اور خطے میں امریکی بحری طاقت کے باوجود اب تک مکمل طور پر جھکا کیوں نہیں۔

امریکا نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے، جسے ایران مسترد کرتا آیا ہے۔
عبوری معاہدے کا امکان
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عندیہ دیا ہے کہ جنیوا میں آئندہ ملاقات میں ایک مسودہ پیش کیا جا سکتا ہے اور “سفارتی حل کا اچھا امکان” موجود ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق ایک عبوری معاہدہ بھی زیرِ غور آ سکتا ہے جو بڑے معاہدے تک پہنچنے کا راستہ ہموار کرے۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس 60 فیصد تک افزودہ یورینیم کا قابلِ ذکر ذخیرہ موجود ہے، جو ہتھیاروں کے درجے (90 فیصد) سے زیادہ دور نہیں۔ اسی نکتے پر عالمی تشویش مرکوز ہے۔
سفارت کاری یا تصادم؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کی تازہ پیشکش دراصل وقت حاصل کرنے اور ممکنہ امریکی حملے کو ٹالنے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب امریکا بھی خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھائے ہوئے ہے، جس سے کشیدگی برقرار ہے۔
فی الحال سفارت کاری کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا، لیکن دونوں فریقین کو ایک “منطقی ٹائم لائن” اور باہمی مفادات پر مبنی روڈمیپ پر اتفاق کرنا ہوگا۔ آئندہ چند دنوں میں جنیوا مذاکرات اس بات کا تعین کر سکتے ہیں کہ خطہ کسی عبوری مفاہمت کی طرف بڑھتا ہے یا کشیدگی مزید گہری ہو جاتی ہے۔



