
(تازہ حالات رپورٹ )
عالممقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے لیے ماہِ رمضان بھی کوئی سکھ کا سانس نہیں لا سکا۔ ایک طرف اسرائیلی فوج کی جانب سے روزمرہ کی بنیاد پر گرفتاریوں اور چھاپوں کا سلسلہ تیز کر دیا گیا ہے، تو دوسری جانب منظم اور امتیازی پالیسیوں کے تحت فلسطینیوں پر اپنی ہی زمین تنگ کی جا رہی ہے اور ان کے گھروں کی مسماری میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
رمضان المبارک میں سینکڑوں گرفتاریاں اور تشدد انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ‘فلسطینی اسیران سوسائٹی’ (Palestinian Prisoner Society) کی ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، 18 فروری کو رمضان کی شروعات کے بعد سے اب تک مغربی کنارے کے مختلف صوبوں اور مشرقی یروشلم میں 100 سے زائد فلسطینیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ ان زیرِ حراست افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گرفتاری کی ان کارروائیوں کے دوران چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا جا رہا ہے۔ قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ ان کے گھروں میں توڑ پھوڑ، اور گاڑیوں، نقدی اور زیورات کی ضبطگی جیسے واقعات اب معمول بن چکے ہیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 9,300 سے زائد فلسطینی قید ہیں، جن میں 350 معصوم بچے شامل ہیں۔ ان قیدیوں کو بدترین تشدد، فاقہ کشی اور طبی غفلت کا سامنا ہے، جس کے باعث حالیہ مہینوں میں درجنوں اسیران جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ یاد رہے کہ 8 اکتوبر 2023 کے بعد سے مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور غیر قانونی آباد کاروں کے حملوں میں اب تک کم از کم 1,117 فلسطینی شہید اور 11,500 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔

تعمیراتی اجازت ناموں میں حیران کن اور کھلی تفریق ایک طرف فلسطینیوں کو جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا ہے، تو دوسری جانب ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت انہیں اپنی ہی زمینوں پر گھر بنانے سے روکا جا رہا ہے۔ اسرائیلی اخبار ‘ہاریٹز’ (Haaretz) کی رپورٹ کے مطابق، 2009 سے 2020 کے درمیانی 11 سالوں میں اسرائیلی حکام نے غیر قانونی یہودی آباد کاروں کو 22,000 تعمیراتی اجازت نامے (Permits) جاری کیے، جبکہ اس کے برعکس لاکھوں کی آبادی والے فلسطینیوں کو محض 66 اجازت نامے فراہم کیے گئے۔
یہ کھلی تفریق اور مغربی کنارے کے بیشتر حصوں تک رسائی پر پابندی، فلسطینیوں کو اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ وہ بغیر اجازت نامے کے گھر تعمیر کریں۔ بعد ازاں، اسرائیلی حکام اسی اجازت نامے کی عدم موجودگی کو جواز بنا کر ان گھروں کو غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیتے ہیں۔
گھروں کی مسماری اور بے دخلی کا تیز ترین سلسلہ مغربی کنارے میں مکانات کو بلڈوزر سے گرانے کی کارروائیوں میں غیر معمولی تیزی آئی ہے۔ اخبار نے نابلس کے جنوب میں واقع علاقے ‘التعاون’ کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ یہ علاقہ کسی بھی یہودی بستی یا سڑک سے دور ہونے کے باوجود تعمیراتی اجازت ناموں سے محروم ہے۔ صرف جنوری کے مہینے میں، اسرائیلی فوج نے ‘ایریا سی’ (Area C) میں اجازت نامہ نہ ہونے کے بہانے 24 فلسطینی عمارتیں زمین بوس کر دیں۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (OCHA) کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دو سالوں میں کم از کم 2,461 فلسطینی عمارتیں مسمار کی جا چکی ہیں، جس کے نتیجے میں 3,500 سے زائد افراد بے گھر ہو کر کھلے آسمان تلے آ گئے۔ یہ تعداد اس سے پچھلے 9 سالوں میں گرائی گئی 4,984 عمارتوں کے مقابلے میں ایک انتہائی تشویشناک اضافہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ مسماری مہم اتفاقیہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایسے وقت میں تیز ہوئی ہے جب غیر قانونی یہودی بستیوں اور آؤٹ پوسٹس کی تیزی سے توسیع کی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے لگ بھگ 80 فلسطینی کمیونٹیز کو ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کیا جا چکا ہے۔
تاریخی پس منظر (ایریا سی کیا ہے؟) واضح رہے کہ 1995 کے اوسلو دوم معاہدے (Oslo II Accord) کے تحت مغربی کنارے کو تین انتظامی حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا:
- ایریا اے (Area A): مکمل فلسطینی کنٹرول۔
- ایریا بی (Area B): فلسطینی سول انتظامیہ اور اسرائیلی سکیورٹی کنٹرول۔
- ایریا سی (Area C): مکمل اسرائیلی سول اور سکیورٹی کنٹرول۔
ایریا سی مغربی کنارے کے کل رقبے کا 61 فیصد بنتا ہے، اور یہی وہ علاقہ ہے جہاں فلسطینیوں کی تعمیرات پر سب سے زیادہ سخت پابندیاں عائد ہیں اور مسماری کا سب سے زیادہ نشانہ بھی اسی علاقے کو بنایا جاتا ہے۔



