
—(تازہ حالات رپورٹ )
ایران کی داخلی سیاست میں ایک غیر معمولی اور انتہائی سنسنی خیز پیش رفت سامنے آئی ہے۔ فرانسیسی اخبار ‘لے فگارو’ (Le Figaro) کی ایک چشم کشا رپورٹ کے مطابق، سابق ایرانی صدر حسن روحانی اور ان کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کی جانب سے ملک گیر مظاہروں کے دوران سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اقتدار اور فیصلہ سازی سے بے دخل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ اس مبینہ بغاوت کو ناکام بنانے کے بعد ریاست کے ایک اور اہم ترین رہنما، علی لاریجانی نے عملی طور پر ملک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
اندرونی بغاوت کا مبینہ منصوبہ رپورٹ کے مطابق، یہ سنسنی خیز واقعہ 7 اور 8 جنوری کی درمیانی شب اس وقت پیش آیا جب ایران میں حکومت مخالف مظاہرے اپنے عروج پر تھے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس مہم کی قیادت سابق صدر حسن روحانی کر رہے تھے، جنہیں اپنی سابقہ انتظامیہ کے اہم ارکان (بشمول جواد ظریف)، شہرِ قم کے چند سرکردہ علما، اور پاسدارانِ انقلاب (IRGC) سے وابستہ بعض شخصیات کی حمایت حاصل تھی۔
اس منصوبے کا بنیادی مقصد سنگین ملکی بحران کے دوران سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو فیصلوں سے دور رکھنا تھا۔ اس پوری کارروائی کو اس قدر خفیہ رکھا گیا کہ موجودہ صدر مسعود پزشکیان کو بھی اس کی بھنک تک نہ لگنے دی گئی۔
منصوبے کی ناکامی اور سابق صدر کی نظر بندی یہ غیر معمولی سیاسی چال اس وقت اپنے انجام کو پہنچی جب اسے ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے موجودہ سیکریٹری علی لاریجانی کی حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس منصوبے کے بے نقاب ہونے کے فوراً بعد، حسن روحانی اور جواد ظریف کو کئی دنوں تک گھر میں نظر بند (House Arrest) رکھا گیا، جبکہ ان کے قریبی اصلاح پسند رہنماؤں کو بھی عارضی طور پر حراست میں لیا گیا۔

علی لاریجانی کے بڑھتے ہوئے اختیارات نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اس اندرونی بغاوت کو ناکام بنانے کے بعد، سپریم لیڈر خامنہ ای نے ایک ماہ قبل ہی ریاست چلانے کی اہم ترین ذمہ داریاں 67 سالہ علی لاریجانی کے حوالے کر دی ہیں۔ اب لاریجانی عملی طور پر موجودہ صدر پزشکیان کو سائیڈ لائن کر کے ملک کے طاقتور ترین منتظم بن چکے ہیں۔
حالیہ مہینوں میں علی لاریجانی کے اختیارات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ وہ اب بیک وقت کئی اہم محاذ سنبھال رہے ہیں:
- ملک میں جاری مظاہروں کو کچلنے اور مزاحمت کو ختم کرنے کی نگرانی۔
- امریکہ کے ساتھ انتہائی حساس جوہری مذاکرات کی قیادت۔
- روس، قطر اور عمان جیسے اہم علاقائی اتحادیوں کے ساتھ سفارتی اور اسٹریٹجک روابط۔
- امریکہ کے ساتھ کسی بھی ممکنہ جنگ کی صورت میں ہنگامی منصوبوں (Contingency Plans) کی تیاری۔
تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ پیش رفت ایران کے موجودہ صدر مسعود پزشکیان کی انتہائی کمزور پوزیشن کو بے نقاب کرتی ہے۔ اگرچہ صدر کے پاس عوام کا مینڈیٹ ہوتا ہے، لیکن لاریجانی کا وسیع تجربہ اور سپریم لیڈر کا ان پر مکمل اعتماد انہیں ایران کی طاقت کے کھیل میں سب سے آگے لے گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ اقدام اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ ایرانی نظام کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اپنی بقا اور تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے پوری طرح متحرک ہے۔

علی لاریجانی کون ہیں؟ علی لاریجانی کا تعلق ایران کے ایک انتہائی بااثر اور طاقتور مذہبی خانوادے سے ہے۔ ان کے والد ایک ممتاز عالمِ دین تھے، جبکہ ان کے بھائی صادق لاریجانی ملک کی عدلیہ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ علی لاریجانی اس سے قبل مغربی طاقتوں کے ساتھ جوہری مذاکرات کی قیادت بھی کر چکے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وہ تین بار صدارتی امیدوار بنے، لیکن 2021 اور حالیہ 2024 کے انتخابات میں انہیں الیکشن لڑنے کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔ تاہم، اب موجودہ بحران نے انہیں ایک بار پھر ایران کے طاقتور ترین افراد کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔



