
(تازہ حالات رپورٹ )
مشرق وسطیٰ اس وقت شدید جغرافیائی و سیاسی تبدیلیوں اور تناؤ کے دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف خلیجی ممالک کے درمیان سمندری حدود کا پرانا تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، تو دوسری جانب ایران نے ہائبرڈ وار فیئر کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے اپنے دشمنوں کو کسی بھی جارحیت کی صورت میں ناقابلِ فراموش سبق سکھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
عراق کے نئے سمندری نقشوں پر سعودی عرب اور کویت کا سخت ردعمل
اقوام متحدہ میں عراق کی جانب سے جمع کرائے گئے نئے سمندری نقشوں اور کوآرڈینیٹس نے خلیج میں ایک نیا سفارتی بحران کھڑا کر دیا ہے۔ سعودی عرب اور کویت نے ان نقشوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے کویت کی علاقائی خودمختاری کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے سخت بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق نے جو کوآرڈینیٹس جمع کرائے ہیں، وہ سعودی-کویتی منقسم آبی زون کے بڑے حصے پر غیر قانونی دعویٰ کرتے ہیں۔ ریاض نے واضح کیا ہے کہ 1982 کے اقوام متحدہ کے سمندری قانون (UNCLOS) اور باہمی معاہدوں کے تحت، ان آبی وسائل پر صرف سعودی عرب اور کویت کا مشترکہ حق ہے۔

یہ تنازع خاص طور پر ’فشت القید‘ اور ’فشت العیج‘ کے آبی علاقوں کے گرد گھومتا ہے، جن پر کویت اپنی مکمل خودمختاری کا دعویدار ہے۔ صورتحال کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے کویتی دفتر خارجہ نے فوری طور پر عراقی ناظم الامور زید عباس شنشول کو طلب کر کے باضابطہ احتجاجی مراسلہ تھما دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 833 (جس کے تحت کویت اور عراق کی سرحدیں مقرر کی گئی تھیں) کی پاسداری خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے، اور متحدہ عرب امارات سمیت دیگر ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

"دشمن کی شکست یقینی ہے”: ایرانی آرمی چیف کا دوٹوک موقف
دوسری جانب خطے کی اہم طاقت ایران کے آرمی چیف، میجر جنرل امیر حاتمی نے ملک کی سیکیورٹی صورتحال اور عالمی دباؤ پر ایک انتہائی اہم پالیسی بیان دیا ہے۔ ملٹری کمانڈ اینڈ اسٹاف یونیورسٹی میں خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دشمنوں کی جانب سے برتری کے تمام دعوے ریت کی دیوار ثابت ہوئے ہیں اور ان کی حتمی شکست یقینی ہے۔

امریکہ اور دیگر مغربی طاقتوں کا بالواسطہ حوالہ دیتے ہوئے جنرل حاتمی نے کہا کہ ویتنام اور افغانستان میں دہائیوں طویل جنگیں لڑنے والی سپر پاورز کا انجام دنیا کے سامنے ہے۔ جو قوتیں دھمکیوں اور رعب کے ساتھ میدان میں اترتی ہیں، وہ بالآخر ناکامی کا منہ دیکھ کر واپس لوٹتی ہیں۔
ہائبرڈ وار اور اندرونی محاذ کی تیاری
ایرانی کمانڈر نے موجودہ حالات کو روایتی جنگ کے بجائے ایک پیچیدہ ‘ہائبرڈ وار’ (Hybrid War) قرار دیا، جو بیک وقت سیاسی، معاشی، سماجی، نفسیاتی اور ابلاغی محاذوں پر لڑی جا رہی ہے۔ انہوں نے حالیہ مہینوں (خاص طور پر جنوری اور فروری کے واقعات) کا ذکر کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ دشمن نے ایک ‘سافٹ بغاوت’ یا اسٹریٹجک تھکاوٹ پیدا کرنے کی سازش کی تھی، جسے عوام کی بیداری نے ناکام بنا دیا۔
جنرل حاتمی کا واضح پیغام تھا کہ اگر کسی بھی بیرونی قوت نے علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچانے کی معمولی سی بھی غلطی کی، تو ایران کی مسلح افواج ایسا منہ توڑ اور بے مثال جواب دیں گی جس کا دشمن نے کبھی تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔



