
واشنگٹن/(تازہ حالات رپورٹ ): مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر شدید تناؤ کی فضا قائم ہو گئی ہے۔ پینٹاگون کی ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ خطے میں بھاری فوجی جمع غفیر کے بعد ریاستہائے متحدہ امریکہ، ایران کے خلاف ایک "بھرپور اور شدید” (highly kinetic) فوجی مہم کے لیے پوزیشن میں آ چکا ہے۔ دوسری جانب، ممکنہ جنگ کے پیشِ نظر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ یورپی یونین آخری لمحے تک سفارتی حل کے لیے کوشاں ہے۔
‘فیصلہ اب سیاسی ہے، فوجی تیاری مکمل ہے’
پینٹاگون کی سابق سینئر عہدیدار اور اب واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی میں ریسرچ ڈائریکٹر، ڈانا سٹرول (Dana Stroul) نے فوکس نیوز ڈیجیٹل کو بتایا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف ایک پائیدار اور شدید مہم چلانے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس کا حکم دیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی افواج مشرق وسطیٰ میں اتحادیوں کو ایران کے میزائلوں سے بچانے کے لیے بھی مکمل تیار ہیں۔
اسٹرول نے خطے میں امریکی فوجی طاقت میں غیر معمولی اضافے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دو طیارہ بردار بحری جہازوں (USS Gerald R. Ford اور USS Abraham Lincoln) کی تعیناتی، اضافی تباہ کن جہازوں، لڑاکا طیاروں اور فضائی دفاعی نظام نے جون 2025 میں کیے گئے حملوں کے مقابلے میں امریکی جارحانہ اور دفاعی صلاحیتوں کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ "اب سوال فوجی تیاری کا نہیں، بلکہ سیاسی فیصلے کا ہے،” اور کسی بھی کارروائی کا انحصار صدر ٹرمپ کے احکامات پر ہوگا۔
تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ
جنگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کے درمیان، توانائی کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں زبردست उछाल آ سکتا ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق، انرجی کنسلٹنٹ فریدون فیشارکی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتیں 90 سے 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

فیشارکی نے بلومبرگ ٹی وی کو بتایا، "مجھے نہیں لگتا کہ امریکہ کے پاس جنگ کے سوا کوئی چارہ ہے۔ یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ وہ اتنی بڑی فوجی تعیناتی کے بعد جہازوں کو واپس موڑ کر گھر چلے جائیں گے۔” ماہرین کے مطابق، کسی بھی تنازعے کی صورت میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش اور خطے سے خام تیل کی سپلائی میں خلل قیمتوں کو آسمان پر پہنچا سکتا ہے۔
یورپی یونین کی سفارتی حل کی آخری کوشش
ایک طرف جہاں جنگ کے نगाڑے بج رہے ہیں، وہیں یورپی یونین کی فارن پالیسی چیف، کایا کالس (Kaja Kallas) نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان متوقع مذاکرات سے قبل سفارتی حل پر زور دیا ہے۔
برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل کالس نے کہا، "ہمیں اس خطے میں ایک اور جنگ کی ضرورت نہیں ہے، ہمارے پاس پہلے ہی بہت سے تنازعات ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت کمزور پوزیشن میں ہے اور اس لمحے کو سفارتی نتائج حاصل کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صدر ٹرمپ ممکنہ حملوں کی دھمکی دے چکے ہیں۔
پس منظر
واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران کے جوہری پروگرام اور خطے میں اس کی پراکسیز کی حمایت پر مغرب اور تہران کے درمیان طویل عرصے سے تناؤ جاری ہے۔ حالیہ مہینوں میں دونوں جانب سے سخت بیانات اور فوجی نقل و حرکت نے خطے کو ایک بار پھر بارود کے ڈھیر پر لا کھڑا کیا ہے۔



