
(تازہ حالات رپورٹ )
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکا کا سب سے بڑا طیارہ بردار جنگی جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ (USS Gerald R. Ford) اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ پہنچنے والا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب واشنگٹن اور یروشلم ممکنہ علاقائی تصادم کے خدشات کے پیش نظر اپنی عسکری تیاریوں میں اضافہ کر رہے ہیں۔
امریکی بحریہ کا یہ جدید طیارہ بردار جہاز، جسے دنیا کا سب سے بڑا ایئرکرافٹ کیریئر کہا جاتا ہے، جبرالٹر کی آبنائے عبور کرنے کے بعد بحیرہ روم میں داخل ہوا۔ اگرچہ امریکی نیوی نے باضابطہ طور پر اس کی حیفہ میں لنگراندازی کی حتمی تاریخ کی تصدیق نہیں کی، تاہم مختلف دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ تعیناتی خطے میں امریکی موجودگی کو مزید مضبوط بنانے کا حصہ ہے۔
اسرائیل میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ
رپورٹس کے مطابق امریکا نے حالیہ ہفتوں میں اسرائیل کے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر کارگو اور ایندھن بھرنے والے فوجی طیارے بھی تعینات کیے ہیں۔ اس اقدام کو ممکنہ ہنگامی صورتحال میں لاجسٹک سپورٹ اور فضائی آپریشنز کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

فورڈ کیریئر اسٹرائیک گروپ، جسے کیریئر اسٹرائیک گروپ 12 بھی کہا جاتا ہے، میں درجنوں لڑاکا طیارے، میزائل بردار بحری جہاز اور ہزاروں اہلکار شامل ہوتے ہیں۔ اندازوں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود 40 ہزار سے زائد امریکی فوجیوں کے علاوہ اس تعیناتی سے مزید ہزاروں اہلکار خطے میں شامل ہو جائیں گے۔
حیفہ کی اسٹریٹیجک اہمیت
حیفہ اسرائیلی بحریہ کا مرکزی ہیڈکوارٹر ہے اور ملک کی سب سے بڑی آئل ریفائنری بھی یہیں واقع ہے۔ ماضی میں ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران اس شہر کو میزائل حملوں کا سامنا بھی رہا، جس میں عمارتوں کو نقصان پہنچا اور متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ اسی باعث حیفہ کو ایک حساس اسٹریٹیجک مقام سمجھا جاتا ہے۔
لبنان میں امریکی سفارتی عملے کا انخلا
دوسری جانب امریکا نے لبنان میں اپنے سفارت خانے سے غیر ضروری عملے اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی نکال لیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام ممکنہ علاقائی پیش رفت کے پیش نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر کیا گیا ہے، تاہم بیروت میں سفارت خانہ بدستور ضروری عملے کے ساتھ کام کر رہا ہے۔

علاقائی صورتحال پر عالمی نظریں
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ فی الحال کسی براہِ راست فوجی کارروائی کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن بحری اور فضائی طاقت کی اس سطح کی تعیناتی صورتحال کی سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ تیاریوں کو ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے دن خطے کی سکیورٹی صورتحال کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں، کیونکہ کسی بھی فریق کی جانب سے غلط اندازہ وسیع تر علاقائی بحران کو جنم دے سکتا ہے۔



