تازہ ترینترکی

اسرائیلی پیشکش ٹھکرانے والا ترک سائنسدان: ‘اوزدیمیر بائراکتار’ جس نے ترکیہ کی تقدیر بدل دی

انقرہ (تازہ حالات رپورٹ ) — یہ کہانی کسی فلمی اسکرپٹ سے کم نہیں، لیکن یہ جدید ترکیہ کی وہ چشم کشا حقیقت ہے جس نے عالمی دفاعی صنعت میں تہلکہ مچا دیا۔ ‘اوزدیمیر بائراکتار’ (Özdemir Bayraktar) محض ایک نام نہیں، بلکہ اس ‘پاس ورڈ’ کا درجہ رکھتا ہے جس نے ترکیہ کو ایک درآمد کنندہ ملک سے نکال کر ڈرون ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک ناقابلِ تسخیر عالمی طاقت بنا دیا۔

آج ترکیہ کے تیار کردہ ‘بائراکتار’ اور ‘آکنجی’ ڈرونز دنیا کے درجنوں ممالک کی فضائیہ کا حصہ ہیں، لیکن اس شاندار کامیابی کے پیچھے ایک ایسے تنہا شخص کی خاموش اور کٹھن جدوجہد ہے جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔

اپنوں کی بے رخی اور ابتدائی رکاوٹیں جب اوزدیمیر بائراکتار نے مقامی سطح پر ڈرون (UAVs) بنانے کا خواب دیکھا، تو ان کے ابتدائی دن انتہائی مشکل تھے۔ انہیں اپنے ہی ملک میں شدید نظر انداز کیا گیا اور بیوروکریسی کی جانب سے ان کے راستے میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں۔ حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے برابر تھی اور ان کے پروجیکٹ کو محض ایک خام خیالی سمجھا جاتا تھا۔

اسرائیلی خفیہ نگرانی اور حیران کن پیشکش لیکن اس کہانی میں سب سے سنسنی خیز موڑ اس وقت آیا جب ترکیہ میں انہیں نظر انداز کیا جا رہا تھا، اور دوسری جانب اسرائیلی خفیہ ایجنسیاں اور دفاعی کمپنیاں ان کی صلاحیتوں کی خاموشی سے نگرانی کر رہی تھیں۔

اسرائیل اس بات کو بھانپ چکا تھا کہ یہ شخص دفاعی دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ایک وقت آیا جب ایک نامور اسرائیلی دفاعی کمپنی نے انتہائی خفیہ طور پر اوزدیمیر بائراکتار سے رابطہ کیا اور انہیں پرکشش پیشکش کی کہ وہ ان کا پورا ڈرون پروجیکٹ خریدنا چاہتے ہیں، یا کم از کم انہیں اپنے ساتھ پارٹنرشپ کر لینی چاہیے۔ لیکن ایک سچے محبِ وطن کے طور پر بائراکتار نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا، کیونکہ ان کا وژن صرف اپنے ملک کو خود کفیل بنانا تھا۔

امریکہ اور اسرائیل کی دہلیز سے عالمی بالادستی تک یہ عسکری تاریخ کی انوکھی ترین داستانوں میں سے ایک ہے کہ کیسے صرف ایک شخص کے غیر متزلزل عزم نے ایک پوری قوم کی تقدیر بدل دی۔

ایک ایسا وقت تھا جب ترکیہ کو اپنی سیکیورٹی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدید ڈرونز خریدنے کی خاطر امریکہ اور اسرائیل کی دہلیز پر دستک دینی پڑتی تھی۔ یہ ممالک یا تو ٹیکنالوجی دینے سے انکار کر دیتے تھے، یا پھر انتہائی کڑی شرائط اور بھاری قیمتوں پر محدود ڈرونز فراہم کرتے تھے۔

لیکن آج اوزدیمیر بائراکتار کی انتھک محنت کا نتیجہ ہے کہ ترکیہ ڈرون انڈسٹری میں امریکہ کا سب سے بڑا مدمقابل بن کر ابھرا ہے اور عالمی سطح پر ٹاپ پوزیشنز پر براجمان ہے۔ ان کی قائم کردہ کمپنی آج عالمی دفاعی مارکیٹ میں ترکیہ کے غلبے کی علامت بن چکی ہے، جس نے ثابت کر دیا کہ محنت اور لگن سے ٹیکنالوجی کی اجارہ داری کو توڑا جا سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button