
واشنگٹن (تازہ حالات رپورٹ ): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا میں گردش کرنے والی ان خبروں کو "سو فیصد جھوٹا” اور "فیک نیوز” قرار دیا ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ امریکی چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، جنرل ڈینیل کین (جو رازین کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں)، ایران کے خلاف جنگ کے مخالف ہیں۔
‘جنگ آسانی سے جیت لیں گے’
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ میڈیا رپورٹس میں جنرل کین کے حوالے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں اور اس دعوے کا کوئی ماخذ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ جنرل کین، ہم سب کی طرح، جنگ نہیں چاہتے، لیکن اگر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا تو جنرل کی رائے میں یہ جنگ "آسانی سے جیت لی جائے گی”۔

ٹرمپ نے جنرل کین کی صلاحیتوں پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران کو بخوبی جانتے ہیں کیونکہ وہ ماضی میں "مڈ نائٹ ہیمر” آپریشن کے نگران رہ چکے ہیں، جس میں امریکی بی-2 بمبار طیاروں نے ایران کے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ انہوں نے جنرل کین کو ایک "عظیم جنگجو” اور دنیا کی طاقتور ترین فوج کا نمائندہ قرار دیا۔
‘فیصلہ میں خود کروں گا’
صدر ٹرمپ نے میڈیا رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جنرل کین نے کبھی بھی ایران کے خلاف کارروائی نہ کرنے یا محدود حملوں کی بات نہیں کی، جیسا کہ میڈیا میں دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل کین صرف "جیتنا” جانتے ہیں اور اگر انہیں حکم ملا تو وہ سب سے آگے ہوں گے۔
ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ "فیصلہ میں خود کرتا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کو ترجیح دیں گے، لیکن اگر کوئی معاہدہ نہ ہو سکا تو یہ ایران اور اس کے "عظیم اور شاندار لوگوں” کے لیے "بہت برا دن” ہوگا، اور افسوسناک طور پر، ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔
پس منظر
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے اور دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جس سے خطے میں ایک نئے تنازعے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔



