ایران کا ‘ایٹمی پروگرام’ بند کرنے کا مشروط اعلان: امریکہ کے سامنے نیا ‘فارمولا’ رکھ دیا

تہران/واشنگٹن (ویب ڈیسک): مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید کشیدگی اور جنگ کے خطرات کے درمیان ایران نے ایک ایسا غیر معمولی سفارتی کارڈ کھیل دیا ہے جس نے عالمی طاقتوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ تہران نے پہلی بار اپنا جوہری پروگرام عارضی طور پر معطل یا مکمل بند کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، لیکن اس کے لیے ایک ایسی ‘شرط’ رکھی گئی ہے جو خطے کی سیاست کا رخ بدل سکتی ہے۔
ایران کی پیشکش کیا ہے؟
باخبر سفارتی ذرائع اور حالیہ رپورٹس کے مطابق، ایرانی حکام نے پسِ پردہ رابطوں میں پیغام دیا ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے (De-escalation) کے لیے اپنی یورینیم کی افزودگی اور حساس جوہری سرگرمیوں کو روکنے کے لیے تیار ہیں۔ تاہم، ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ بدلے میں امریکہ کی سرپرستی میں ایک "علاقائی نیوکلیئر پاور کنسورشیم” (Regional Nuclear Power Consortium) قائم کیا جائے۔

‘کنسورشیم’ کا مطلب کیا ہے؟
ایران کی اس تجویز کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے
ایک مشترکہ پراجیکٹ بنایا جائے جس میں خطے کے دیگر ممالک (جیسے سعودی عرب، ترکیہ، یو اے ای وغیرہ) شامل ہوں۔
اس پورے منصوبے کی نگرانی اور حمایت براہِ راست امریکہ کرے گا۔
اس طرح ایران کو بجلی اور ٹیکنالوجی بھی ملے گی اور پڑوسی ممالک کو یہ اطمینان بھی رہے گا کہ ایران خفیہ طور پر ایٹم بم نہیں بنا رہا۔:
کیا یہ ایران کا ‘ماسٹر سٹروک’ ہے؟
امریکہ کے لیے امتحان: اگر امریکہ اور ٹرمپ انتظامیہ واقعی ایران کو ایٹمی ہتھیاروں سے روکنا چاہتے ہیں، تو یہ تجویز انہیں جنگ کے بغیر یہ مقصد حاصل کرنے کا راستہ دیتی ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین اسے ایران کا ایک بڑا ‘سفارتی ماسٹر سٹروک’ قرار دے رہے ہیں۔
پڑوسیوں کا اعتماد: یہ تجویز خلیجی ممالک کے خدشات کو دور کرنے کی کوشش ہے، کیونکہ مشترکہ کنسورشیم کا مطلب ہوگا کہ ایران کا جوہری پروگرام سب کے سامنے ‘اوپن بک’ کی طرح ہوگا۔

واشنگٹن کا ممکنہ ردِعمل
ابھی تک وائٹ ہاؤس یا اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اس نئی پیشکش پر باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، جنگی جنون کی موجودہ فضا میں یہ تجویز سفارت کاری کا ایک نیا دروازہ کھول سکتی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ نے اسے مسترد کیا تو ایران کو یہ بیانیہ بنانے کا موقع مل جائے گا کہ "ہم تو امن چاہتے تھے، مگر امریکہ جنگ پر بضد ہے۔”
مستقبل کا منظرنامہ
اگر اس فارمولے پر اتفاق ہو جاتا ہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ سے جنگ کے بادل چھٹ جائیں گے بلکہ خطے میں توانائی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ لیکن بڑا سوال یہ ہے: کیا اسرائیل اور امریکی کانگریس کے سخت گیر عناصر ایران کے ساتھ ایسے کسی مشترکہ منصوبے کو قبول کریں گے؟



