
(تازہ حالات رپورٹ )
اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے فیصلہ کن فوجی کارروائی پر زور دیا ہے۔
لیپڈ کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے امریکہ کی ناراضگی یا سفارتی محاذ آرائی کا خطرہ بھی مول لیا جا سکتا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایران کو ممکنہ حملے پر ‘تاریخ کی سب سے بڑی غلطی’ کی وارننگ دے دی۔
کشیدگی اور ممکنہ فوجی کارروائی کے پیشِ نظر امریکی ریفیولنگ طیارے تل ابیب پہنچ گئے۔
تفصیلی رپورٹ:
مشرق وسطیٰ میں جنگ کے سائے مزید گہرے ہونے لگے ہیں۔ اسرائیلی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف جارحانہ بیانات میں غیر معمولی شدت آ گئی ہے، جس نے خطے میں ایک وسیع تر اور تباہ کن تنازع کے خدشات کو جنم دیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں اور عبرانی اخبار ‘یدیعوت احرونوت’ کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لیپڈ نے کینیسٹ (اسرائیلی پارلیمنٹ) کے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کھلم کھلا مطالبہ کیا ہے کہ موجودہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ایران کے اہم انفراسٹرکچر، خاص طور پر تیل اور بجلی کی تنصیبات پر فوری اور تباہ کن بمباری کی جائے۔

لیپڈ نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اس انتہائی حساس موڑ پر وہ اور ان کے سیاسی حریف، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو، ایران کے معاملے پر مکمل طور پر ایک پیج پر ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کو اب کسی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہونا چاہیے، "یہاں تک کہ اگر اس کے لیے ہمیں اپنے سب سے بڑے اتحادی امریکہ کے ساتھ سفارتی سطح پر محاذ آرائی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔” انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ بین الاقوامی فورمز پر جا کر اسرائیل کے اس جارحانہ اقدام کا دفاع کریں گے۔
اسی اجلاس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی انتہائی سخت لہجہ اپناتے ہوئے تہران کو متنبہ کیا کہ اگر ایران نے اسرائیل پر براہِ راست حملے کی غلطی کی، تو یہ اس کی تاریخ کی سب سے بڑی اور آخری بھول ثابت ہوگی۔ نیتن یاہو نے ملکی دفاع اور جوابی کارروائی کے لیے مکمل تیاری کا دعویٰ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں امریکہ اور اسرائیل کا اسٹریٹجک اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔
فوجی تیاریاں بمقابلہ سفارتی کوششیں (پس منظر و تجزیہ)
سیاسی بیانات کے ساتھ ساتھ خطے میں عسکری نقل و حرکت بھی تیز ہو گئی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق، امریکی فضائیہ کے خصوصی ریفیولنگ طیارے (جو جنگی جہازوں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرتے ہیں) تل ابیب کے بین گوریون ایئرپورٹ پر لینڈ کر چکے ہیں۔ دفاعی ماہرین اسے ایران پر ممکنہ فضائی حملے کی پیشگی تیاریوں کا ایک واضح اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

دوسری جانب، جنگ کو ٹالنے کے لیے سفارتی محاذ پر بھی آخری کوششیں جاری ہیں۔ سلطنتِ عمان کی ثالثی میں آئندہ جمعرات کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری تنازعے پر مذاکرات کا نیا دور شیڈول ہے۔ تاہم، اسرائیلی میڈیا (چینل 12) کے مطابق، تل ابیب ان مذاکرات کو ایران کے لیے محض ایک ‘آخری موقع’ کے طور پر دیکھ رہا ہے۔
واضح رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے ایران پر مسلسل دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر بند کر کے اپنا حساس مواد ملک سے باہر منتقل کرے، بصورت دیگر اسے سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس کے برعکس، تہران کا موقف یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جوہری پروگرام کی آڑ میں خطے میں مداخلت اور ‘رجیم چینج’ (اقتدار کی تبدیلی) کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ ایرانی قیادت پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ اگر ان پر کوئی محدود جنگ بھی مسلط کی گئی، تو اس کا ایسا بھرپور اور غیر معمولی جواب دیا جائے گا جو پورے مشرق وسطیٰ کا نقشہ بدل دے گا۔



