
(تازہ حالات رپورٹ )
واشنگٹن ایک جانب مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری طاقت اور ‘ڈیٹرنس’ کے دعوے کر رہا ہے، لیکن دوسری جانب اس کی بحریہ کا فخر سمجھے جانے والا دیوہیکل طیارہ بردار بحری جہاز ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ (USS Gerald R. Ford) سنگین تکنیکی اور نفسیاتی بحرانوں کا شکار ہو چکا ہے۔
معروف امریکی نشریاتی ادارے ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کی ایک تہلکہ خیز رپورٹ نے اس جہاز پر سوار 5 ہزار امریکی اہلکاروں کی ابتر حالت اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ کا پردہ چاک کر دیا ہے۔ یہ چشم کشا انکشافات ایک ایسے نازک وقت میں سامنے آئے ہیں جب یہ بحری بیڑا ایرانی ساحلوں کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے۔
بنیادی سہولیات کا فقدان اور سیوریج کا شرمناک بحران رپورٹ کے مطابق، اربوں ڈالر مالیت کے اس جدید ترین طیارہ بردار جہاز پر تعینات اہلکار شدید ذہنی دباؤ اور تضحیک آمیز تکنیکی خرابیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ بظاہر پرتعیش نظر آنے والے اس جہاز کا سیوریج اور 650 ٹوائلٹس کا ویکیوم سسٹم مسلسل ناکامی کا شکار ہے۔

جہاز پر روزانہ کی بنیاد پر مرمت کی درجنوں شکایات درج کی جا رہی ہیں، جس نے عملے کی روزمرہ زندگی کو ایک ڈراؤنے خواب میں بدل دیا ہے۔ عسکری ماہرین کا ماننا ہے کہ مسلسل 11 ماہ طویل تعیناتی کی وجہ سے جہاز کی مشینری بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اہم دیکھ بھال (Maintenance) کو ملتوی کیا جا رہا ہے۔ اس تھکا دینے والے آپریشنل دباؤ نے اس عظیم الجثہ جہاز کو تکنیکی لحاظ سے انتہائی کمزور کر دیا ہے۔
نفسیاتی دباؤ اور ٹوٹتے ہوئے خاندان امریکی صدر کی جانب سے اس جہاز کی تعیناتی میں دوسری بار توسیع کے اچانک فیصلے نے عملے اور ان کے اہل خانہ کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے۔ رپورٹ میں ان اہلکاروں کی دردناک کہانیاں بھی سامنے آئی ہیں جو اپنے پیاروں کی آخری رسومات یا بہن بھائیوں کی شادیوں میں شرکت سے محروم رہے، جبکہ ان کی بیویاں مکمل تنہائی اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
جہاز کے کمانڈر، کیپٹن ڈیوڈ سکاروس نے خود اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ عملے پر ایک ‘گہرا صدمہ’ طاری ہے اور بہت سے اہلکار وطن واپسی پر مستقل طور پر فوجی سروس چھوڑنے کا سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

اسٹریٹجک الجھن: وینزویلا سے ایران تک اس بیڑے کی نقل و حرکت بھی واشنگٹن کی اسٹریٹجک الجھن کی عکاسی کرتی ہے۔ بحیرہ روم اور کیریبین میں وینزویلا کے صدر کا پیچھا کرنے کے بعد، اچانک اسے مشرق کی جانب ایران کا محاصرہ کرنے کے احکامات مل گئے۔
جانی اور مالی تھکاوٹ اس وقت امریکی فوج کی سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ اہلکاروں کے پیغامات سے انکشاف ہوا ہے کہ جہاز پر ‘گیلے ٹشوز’ (Wet wipes) اور ‘بسکٹ’ جیسی بنیادی اشیاء تک ناپید ہو چکی ہیں۔ تجزیہ کار سوال اٹھا رہے ہیں کہ جو فوج بنیادی اشیاء کو ترس رہی ہو، وہ ایک بڑی علاقائی جنگ کیسے لڑ سکتی ہے؟
حرفِ آخر: کیا اندرونی محاذ امریکہ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دے گا؟ کیا واشنگٹن اب صرف ان لوہے کے ڈھانچوں پر شرط لگا رہا ہے جو اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہیں؟ امریکی بحریہ کی قیادت کا عملے پر پڑنے والے اس بھاری بوجھ کا اعتراف اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی امریکہ کا ‘انسانی ہتھیار’ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔
یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ شاید سمندر میں طویل ترین وقت گزارنے کا نیا ریکارڈ تو قائم کر لے، لیکن یہ امریکی بحریہ کے مورال کو ہمیشہ کے لیے تباہ بھی کر سکتا ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ جنگی جہاز مکمل جنگی صلاحیت کے ساتھ اپنے ہدف تک پہنچ پائے گا، یا کوئی بڑی ‘تکنیکی خرابی’ اور عملے کا ‘اعصابی بریک ڈاؤن’ واشنگٹن کو جنگ سے پہلے ہی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دے گا؟



