
واشنگٹن/بغداد (نیوز ڈیسک) – مشرق وسطیٰ میں فوجی اور سیاسی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ ایک جانب خلیج فارس میں امریکی بحری بیڑے کو ایران کی انتہائی تیز رفتار جنگی کشتیوں کے اسوارم (جسے مچھر بیڑا بھی کہا جاتا ہے) سے غیر معمولی چیلنج کا سامنا ہے، تو دوسری جانب واشنگٹن نے بغداد کو جمعہ تک کی ڈیڈ لائن دے دی ہے کہ وہ ایران کے اثر و رسوخ سے پاک حکومت قائم کرے، بصورت دیگر سخت پابندیوں کے لیے تیار رہے۔
خلیج فارس کا پانی: امریکی بحریہ کے لیے کڑا امتحان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی 10 روزہ وارننگ کے بعد جیسے ہی امریکی طیارہ بردار بحری جہاز خلیج کی جانب بڑھ رہے ہیں، ایران نے اپنی بحری حکمت عملی کو مزید جارحانہ کر دیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، خلیج فارس کا کم گہرا پانی (تقریباً 35 سے 50 میٹر) بڑے امریکی جنگی جہازوں کی نقل و حرکت کے لیے ایک مشکل جال ثابت ہو سکتا ہے۔
حالیہ مشقوں کے دوران ایران نے 1,500 سے زائد چھوٹی اور حملہ آور کشتیاں تعینات کی ہیں۔ 10 ٹن سے کم وزن کی یہ کشتیاں 50 سے 110 ناٹس کی انتہائی تیز رفتار سے حرکت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان میں سے قریباً 300 کشتیاں ‘نصر’، ‘کوثر’، ‘قادر’ اور ‘ظفر’ جیسے خطرناک میزائلوں سے لیس ہیں، جبکہ 1000 کلومیٹر تک مار کرنے والے ‘ابو مہدی’ کروز میزائل بھی اس بیڑے کی طاقت بڑھا رہے ہیں۔

علاوہ ازیں، 20 سے زائد ‘غدیر’ کلاس منی آبدوزیں ‘ہٹ اینڈ رن’ (حملہ کر کے فوراً غائب ہونے) کی کارروائیوں کے لیے تیار ہیں۔ غیر ملکی دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ روس اور چین کی معاونت سے تربیت یافتہ اس بیڑے کو ساحلی غاروں اور خفیہ ٹھکانوں میں چھپا کر رکھا گیا ہے، تاکہ کسی بھی حملے کی صورت میں یہ فوری جوابی کارروائی کر سکیں۔
عراق کو امریکی الٹی میٹم: ‘ایران نواز وزیراعظم قبول نہیں’
عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ امریکہ نے سفارتی محاذ پر بھی دباؤ انتہائی حد تک بڑھا دیا ہے۔ واشنگٹن نے بغداد پر واضح کیا ہے کہ سابق وزیراعظم نوری المالکی کی بطور وزیراعظم نامزدگی کسی صورت قبول نہیں، کیونکہ انہیں ایران کا انتہائی قریبی حلیف سمجھا جاتا ہے۔

سعودی نشریاتی ادارے ‘الحدث’ کی رپورٹ کے مطابق، امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر جمعہ تک اس الٹی میٹم پر عمل نہ ہوا تو عراقی شخصیات اور اداروں پر کڑی اقتصادی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ یاد رہے کہ جنوری میں صدر ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر نوری المالکی کی واپسی کی کھلی مخالفت کی تھی۔
حال ہی میں عراق کے لیے نئے امریکی ایلچی ٹام بیرک نے عراقی وزیراعظم محمد شیاع السودانی سے ملاقات کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر جاری بیان میں کہا کہ عراق کے استحکام کے لیے ایک ایسی موثر قیادت ناگزیر ہے جو خطے میں امن اور خوشحالی کے امریکی اہداف سے ہم آہنگ ہو۔
عراقی سیاست میں دراڑیں اور مالکی کا دو ٹوک موقف
امریکی دباؤ کے بعد عراق کے حکمران سیاسی اتحاد ‘کوارڈینیشن فریم ورک’ میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے ہیں۔ بعض ارکان کو خدشہ ہے کہ مالکی کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی ضد امریکہ کے ساتھ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عراق کو معاشی بقا کے لیے بین الاقوامی حمایت کی سخت ضرورت ہے۔



