
(تازہ حالات رپورٹ )مشرق وسطیٰ میں عروج پر پہنچتی کشیدگی کے درمیان ایران نے ایک بڑی سیکیورٹی کارروائی کرتے ہوئے تہران ایئرپورٹ پر ایک یورپی سفارتکار کے سامان سے خفیہ طور پر لائی جانے والی ‘اسٹار لنک’ (Starlink) سیٹلائٹ انٹرنیٹ ڈیوائسز قبضے میں لے لی ہیں۔ یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں امریکی فضائی طاقت میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور ممکنہ فوجی ٹکراؤ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔
واقعے کی تفصیلات اور سیکیورٹی چیک ایرانی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، یہ سنسنی خیز واقعہ تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آیا۔ ایک یورپی سفارتکار نے سفارتی استثنیٰ (Diplomatic Immunity) کا حوالہ دیتے ہوئے اپنا سامان ایئرپورٹ اسکینر سے گزارنے سے انکار کر دیا۔ سیکیورٹی حکام کی جانب سے سفارتی سامان کے مروجہ قانونی طریقہ کار سے آگاہ کیے جانے کے باوجود، مذکورہ سفارتکار نے تعاون کرنے سے گریز کیا اور اپنا سامان ایئرپورٹ پر ہی چھوڑ کر وہاں سے روانہ ہو گیا۔
کئی روز بعد جب ایک اور سفارتکار نے اس چھوڑے گئے سامان کی صورتحال جاننے کے لیے ایئرپورٹ حکام سے رابطہ کیا، تو کسٹم اور ایرانی وزارتِ خارجہ کے حکام کی موجودگی میں اس مشکوک سامان کی باقاعدہ تلاشی لی گئی۔
سوٹ کیس سے کیا برآمد ہوا؟ تلاشی کے دوران سوٹ کیس کے اندر انتہائی مہارت سے چھپائے گئے 3 اسٹار لنک موڈیم اور 7 سیٹلائٹ فونز برآمد ہوئے۔ حکام نے فوری طور پر تمام آلات کو ضبط کر لیا اور ملوث سفارتکار کے ایران میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔
امریکی انٹیلی جنس سے مبینہ روابط رپورٹ میں اس سفارتکار کی شناخت ‘آندرے وان فیچن’ (Andre Van Feichen) کے نام سے کی گئی ہے، تاہم اس کی شہریت ظاہر نہیں کی گئی۔ تحقیقات اور وکی لیکس (WikiLeaks) کی منظرِ عام پر آنے والی دستاویزات سے انکشاف ہوا ہے کہ آندرے ایک سیکیورٹی اور ڈیفنس ماہر ہے جس کے امریکی حکومت کے ساتھ گہرے اور پیچیدہ روابط رہے ہیں۔ وہ ماضی میں سینئر امریکی سفارتکاروں کو ایران کی اسٹریٹجک کمزوریوں اور طاقت کے حوالے سے خصوصی خفیہ رپورٹس بھی فراہم کرتا رہا ہے۔

پس منظر: اسٹار لنک، مظاہرے اور امریکی دھمکیاں (ایک تجزیاتی نگاہ) یہ نیا انکشاف دراصل ان حالیہ واقعات کی کڑی ہے جب رواں سال کے اوائل میں ایران میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے دوران حکام نے مظاہرین کے قبضے سے ہزاروں کی تعداد میں اسٹار لنک ڈیوائسز برآمد کی تھیں۔
واضح رہے کہ معروف امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے امریکی حکام کے حوالے سے حال ہی میں یہ تہلکہ خیز انکشاف کیا تھا کہ واشنگٹن نے انٹرنیٹ کی بندش کے دوران مظاہرین کی مدد کے لیے 6,000 اسٹار لنک ٹرمینلز خفیہ طور پر ایران اسمگل کیے تھے۔ ان کارروائیوں کو روکنے کے لیے ایران نے ملٹری گریڈ جی پی ایس جیمرز کا وسیع استعمال بھی کیا تھا۔

خطے میں منڈلاتے جنگ کے بادل موجودہ صورتحال کو عراق جنگ کے بعد خطے میں امریکہ کا سب سے بڑا ملٹری بلڈ اپ (فوجی اجتماع) قرار دیا جا رہا ہے۔ مغربی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آئندہ چند روز میں کشیدگی کسی بھی وقت ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
ان بڑھتے ہوئے خطرات کے جواب میں تہران نے سخت ترین وارننگ جاری کی ہے۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای واضح کر چکے ہیں کہ اگر ایران پر کوئی بھی جارحیت کی گئی، تو مشرق وسطیٰ میں موجود تمام امریکی فوجی اڈوں، اثاثوں اور بالخصوص مغربی ایشیا میں تعینات امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں کو براہِ راست نشانہ بنایا جائے گا۔



