اسرائیلتازہ ترین

امریکی F-22 طیارے اسرائیل پہنچ گئے، ٹرمپ کا ایران پر ممکنہ حملے پر غور

(تازہ حالات رپورٹ ) مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیشِ نظر، منگل کی شام امریکی فضائیہ کے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹس (F-22) اسرائیل کے ایک ایئر بیس پر اتر گئے ہیں۔ اس غیر معمولی عسکری نقل و حرکت نے خطے میں ایک بڑی جنگ کے خدشات کو مزید تقویت دے دی ہے۔

امریکی صدر کی مایوسی اور فوجی چیلنجز امریکی نشریاتی ادارے ‘سی بی ایس نیوز’ (CBS News) کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف مؤثر اور فوری فوجی آپشنز کی کمی کی وجہ سے شدید مایوسی کا شکار ہیں۔ مشیروں نے صدر ٹرمپ پر واضح کیا ہے کہ ایران کا معاملہ کسی طور پر بھی وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو اقتدار سے ہٹانے جیسا آسان ٹاسک نہیں ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف کوئی بھی کارروائی محض ایک حملے تک محدود نہیں رہ سکتی، بلکہ اس کے لیے ایک طویل فوجی مہم درکار ہوگی جس سے امریکہ ایک بار پھر مشرق وسطیٰ کی ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھنس سکتا ہے۔

پینٹاگون کی تشویش اور متضاد دعوے امریکی اخبار ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کے مطابق، پینٹاگون کے اعلیٰ حکام نے اس ممکنہ مہم جوئی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران سے جنگ کی صورت میں امریکی اور اتحادی افواج کا بھاری جانی نقصان ہو سکتا ہے۔

رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین، جنرل ڈین کین (Dan Caine) نے ایران کے ساتھ جنگ کی کھلی مخالفت کی ہے۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ کے ذریعے ان خبروں کی فوری تردید کر دی۔

ٹرمپ کا تذبذب: معاہدہ، محدود حملہ یا مکمل جنگ؟ ‘دی یروشلم پوسٹ’ نے اپنے ذرائع کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ صدر ٹرمپ تاحال کسی حتمی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے۔ اس وقت ان کے سامنے تین اہم آپشنز زیرِ بحث ہیں:

  1. ایران کے ساتھ کوئی نیا ڈیل یا معاہدہ کیا جائے۔
  2. موجودہ ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے کئی ہفتوں پر محیط ایک وسیع جنگ چھیڑی جائے۔
  3. تہران کو اپنی شرائط ماننے پر مجبور کرنے کے لیے ایک انتہائی محدود اور مختصر نوعیت کا حملہ کیا جائے۔

اسرائیلی اور امریکی حکام بھی بے خبر (تجزیاتی پہلو) میڈیا میں گردش کرنے والی بے تحاشا افواہوں اور ‘فیک نیوز’ کے باعث اس وقت صورتحال اس قدر غیر یقینی ہے کہ خود اعلیٰ امریکی اور اسرائیلی حکام کو بھی علم نہیں کہ صدر ٹرمپ کا اگلا قدم کیا ہوگا۔ تاہم، مبصرین کا ماننا ہے کہ وائٹ ہاؤس فی الحال ایک ‘درمیانی راستہ’ نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس بات کے امکانات کافی روشن ہیں کہ واشنگٹن خطے کو ایک بڑی جنگ میں دھکیلنے کے بجائے، محض دباؤ بڑھانے کے لیے ایران پر ایک مختصر اور ٹارگٹڈ حملے کا انتخاب کرے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button