
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )ایک طرف سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایران کے ساتھ بالواسطہ جوہری مذاکرات کی تیاریاں جاری ہیں، تو دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ اوپن سورس انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیشِ نظر امریکہ نے سینٹ کام (CENTCOM) ریجن میں 300 سے زائد جدید ترین جنگی طیاروں کا ایک بہت بڑا بیڑا تعینات کر دیا ہے۔
امریکی طیاروں کی تعیناتی اور فوجی اڈے یہ غیر معمولی امریکی فضائی طاقت بنیادی طور پر قطر کے ‘العدید ایئر بیس’، اردن کے ‘موفق السلطی ایئر بیس’، اور سعودی عرب کے ‘پرنس سلطان ایئر بیس’ پر تعینات کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی خلیج میں موجود امریکی طیارہ بردار بحری جہازوں ‘یو ایس ایس ابراہم لنکن’ اور ‘یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ’ سے بھی فضا میں نگرانی جاری ہے۔
فوجی ذرائع کے مطابق، جنوری سے اب تک سی-17 اور سی-5 طیاروں کے ذریعے 270 سے زائد لاجسٹک پروازیں مکمل کی جا چکی ہیں۔ مزید برآں، ممکنہ ایرانی جوابی کارروائی سے بچنے کے لیے پیٹریاٹ (Patriot) اور تھاڈ (THAAD) جیسے جدید ترین میزائل ڈیفنس سسٹمز بھی نصب کر دیے گئے ہیں۔
خوفناک فضائی بیڑے کی تفصیلات اس بے مثال امریکی فوجی اجتماع میں 70 فیصد فرنٹ لائن فائٹر جیٹس شامل ہیں۔ ان میں 84 ایف-18 (F-18E/F)، 36 ایف-15، 48 ایف-16، اور 42 ففتھ جنریشن ایف-35 اسٹیلتھ طیارے موجود ہیں۔ الیکٹرانک وارفیئر (مواصلاتی نظام جام کرنے والے) اور زمینی حملوں میں مدد دینے والے خصوصی طیارے بھی الرٹ پر ہیں۔ تاہم ماہرین نے نوٹ کیا ہے کہ تباہ کن بی-2 (B-2) بمبار طیاروں کی نقل و حرکت فی الحال نہیں دیکھی گئی۔

اسرائیل کی فضائی طاقت اور ‘ایف-22 ریپٹرز’ کی آمد دوسری جانب اسرائیل کی فضائی طاقت بھی اس ممکنہ جنگی منظر نامے میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اسرائیل کے پاس پہلے ہی سیکڑوں جدید جنگی طیارے موجود ہیں، لیکن منگل کے روز امریکہ نے اسرائیل کو مزید 12 انتہائی خطرناک ‘ایف-22 ریپٹر’ (F-22 Raptor) طیارے فراہم کیے ہیں۔ ان طیاروں کو دشمن کے ریڈار کو دھوکہ دے کر انتہائی گہرائی میں جا کر حملے (Deep Strikes) کرنے کے لیے دنیا کا بہترین ہتھیار مانا جاتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مزید 6 طیارے اسرائیل کے راستے میں ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی: سفارت کاری یا فوجی حملہ؟ اس انتہائی کشیدہ صورتحال پر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی ترجیح سفارت کاری ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر وہ فوجی طاقت کے استعمال کے لیے مکمل تیار ہیں۔ انہوں نے جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے مبینہ ‘آپریشن مڈنائٹ ہیمر’ کی کامیابی کا بھی حوالہ دیا اور خبردار کیا کہ خطرہ ابھی ٹلا نہیں ہے۔

واضح رہے کہ عمان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات کا تیسرا دور جمعرات کو جنیوا میں شروع ہونے جا رہا ہے، جہاں توقع ہے کہ ایران اپنا نیا مسودہ پیش کرے گا۔
عالمی منظر نامے پر اثرات (تجزیہ): دفاعی ماہرین کا ماننا ہے کہ مذاکرات سے عین قبل اتنی بڑی سطح پر عسکری تعیناتی دراصل بین الاقوامی تعلقات میں ‘گن بوٹ ڈپلومیسی’ (Gunboat Diplomacy) کی ایک کلاسک مثال ہے، جس کا مقصد مذاکرات کی میز پر تہران کو شدید نفسیاتی اور عسکری دباؤ میں لانا ہے۔ اگر جنیوا مذاکرات ناکام ہوتے ہیں، تو خطے میں جمع کیا گیا یہ بارود کا ڈھیر کسی بھی وقت ایک تباہ کن جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔



